ن لیگ کی ٹکٹ چلی

کسی ہائی کورٹ کے سب سے بڑے جج نے فوج اور پولیس کے خلاف ایسے الفاظ کہے جو اس عہدے کے شان شایان نہیں تھے مگر حالات و واقعات پر نظر دوڑائی تو اس بڑے جج کی مجبوری بھی دکھائی دینے لگی جج صاب کچھ ہفتوں بعد ریٹائرڈ ہونے والے ہیں اور ریٹارمنٹ کے بعد ایک جج کی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے ایوان کا حصہ بنے اسی لیے آج جج صاب نے جوش خطابت میں جو کچھ بھی کہا وہ اتفاق سے ن لیگی بیانیہ ہی تھا

یہ والے بڑے جج صاب ن لیگ کے پہلے سے ہی کافی قریب ہیں اپنے داماد کو پہلے سے ہی ن لیگ کی گود میں بیٹھا چکے ہیں اس داماد کی ابھی تک سب سے بڑی قابلیت بڑے جج کا داماد ہونا ہی ہے یہ داماد ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں یہ ٹکٹ کس کے کہنے پر دیا گیا یہ بھی عیاں ہے اور آج سینٹ کی ٹکٹ پکی کرنے کے لیے بڑے جج صاب نے نواز شریف کے بیانیے کو چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھ کر حکم کی طرح صادر کردیا اور جانے سے پہلے اپنے ماتھے پر پوری وفاداری کی مہر بھی لگوا لی

وہ جو مریم نواز کہتی تھی کہ “ ن لیگ کی ٹکٹ چلی ہے “ تو بھائیوں ہائی کورٹ میں ن لیگ کی ٹکٹ ہی چلی ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں