وفدِ نجران

نَجْران۔ مکہ سے یمن کی جانب سات مرحلے پر ایک بڑا علاقہ تھا جو ۷۳ بستیوں پر مشتمل تھا، تیز رفتار سوار ایک دن میں پورا علاقہ طے کر سکتا تھا، اس علاقہ میں ایک لاکھ مردان جنگی تھے، جو سب کے سب عیسائی مذہب کے پیرو کار تھے) فتح الباری ۸/۹۴)

نجران کا وفد ۹ ھ میں آیا، یہ ساٹھ افراد پر مشتمل تھا، ۲۴ آدمی اشراف سے تھے جن میں سے تین آدمیوں کو اہل نجران کی سربراہی و سرکردگی حاصل تھی، ایک عاقب جس کے ذمہ امارت و حکومت کا کام تھا اور اس کا نام عبد المسیح تھا، دوسرا سید جو ثقافی اور سیاسی امور کا نگراں تھا اور اس کا نام ایہم یا شرحبیل تھا، تیسرا اسقف ( لاٹ پادری) جو دینی سربراہ اور روحانی پیشوا تھا، اس کا نام ابو حارثہ بن علقمہ تھا۔

وفد نے مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ سے ملاقات کی، پھر آپ نے ان سے کچھ سوالات کیے اور انہوں نے آپ سے کچھ سوالات کیے، اس کے بعد آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن حکیم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں، لیکن انہوں نے اسلام قبول نہ کیا اور دریافت کیا کہ آپ مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس روز دن بھر توقف کیا، یہاں تک کہ آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿٥٩﴾ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ الْمُمْتَرِ‌ينَ ﴿٦٠﴾ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ﴿٦١﴾ (۳: ۵۹، ۶۰ ، ۶۱ )

”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے اسے مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا ہوجا تو وہ ہوگیا، حق تیرے رب کی طرف سے ہے، پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو، پھر تمہارے پاس علم آجانے کے بعد کوئی تم سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں حجت کرے تو اس سے کہہ دو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے اپنے بیٹوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور خود اپنے آپ کو پھر مباہلہ کریں (اللہ سے گِڑ گڑا کر دعا کریں ) پس اللہ کی لعنت ٹھہرائیں جھوٹوں پر۔”

صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے انہی آیات کریمہ کی روشنی میں انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنے قول سے آگاہ کیا اور اس کے بعد دن بھر انہیں غور وفکر کے لیے آزاد چھوڑ دیا، لیکن انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا، پھر اگلی صبح ہوئی درآنحالیکہ وفد کے ارکان حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی بات تسلیم کرنے اور اسلام لانے سے انکار کر چکے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں مباہلے کی دعوت دی اور حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما سمیت ایک چادر میں لپٹے ہوئے تشریف لائے، پیچھے پیچھے حضرت فاطمہ ؓ چل رہی تھیں، جب وفد نے دیکھا کہ آپ واقعی بالکل تیار ہیں تو تنہائی میں جاکر مشورہ کیا، عاقب اور سید دونوں نے ایک دوسرے سے کہا: دیکھو! مباہلہ نہ کرنا، اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہے اور ہم نے اس سے ملاعنت کرلی تو ہم اور ہمارے پیچھے ہماری اولاد ہرگز کامیاب نہ ہوگی، روئے زمین پر ہمارا ایک بال اور ناخن بھی تباہی سے نہ بچ سکے گا، آخر کی رائے یہ ٹھہری کہ رسول اللہ ﷺ ہی کو اپنے بارے میں حَکم بنایا جائے، چنانچہ انہوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ کا جو مطالبہ ہو ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔

اس پیش کش پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے جزیہ لینا منظور کیا اور دو ہزار جوڑے کپڑوں پر مصالحت فرمائی، ایک ہزار ماہ رجب میں اور ایک ہزار ماہ صفر میں اور طے کیا کہ ہر جوڑے کے ساتھ ایک اوقیہ ( ایک سو باون گرام چاندی ) بھی ادا کرنی ہوگی، اس کے عوض آپ نے انہیں اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ عطا فرمایا اور دین کے بارے میں مکمل آزادی مرحمت فرمائی، اس سلسلے میں آپ نے انہیں ایک باقاعدہ نوشتہ لکھ دیا، ان لوگوں نے آپ سے گزارش کی، آپ ان کے ہاں ایک امین ( امانت دار ) آدمی روانہ فرمائیں، اس پر آپ نے صلح کا مال وصول کرنے کے لیے اس امت کے امین حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو روانہ فرمایا۔

اس کے بعد ان کے اندر اسلام پھیلنا شروع ہوا، اہل سیر کا بیان ہے کہ سید اور عاقب پلٹنے کے بعد مسلمان ہوگئے، پھر نبی ﷺ نے ان سے صدقات اور جزیے لانے کے لیے حضرت علیؓ کو روانہ فرمایا اور معلوم ہے کہ صدقہ مسلمانوں ہی سے لیا جاتا ہے۔ (فتح الباری ۸/ ۹۴،۹۵ زادا لمعاد ۳/۳۸ تا ۴۱۔)

وفد نجران کی تفصیلات میں روایا ت کے اندر خاصا اضطراب ہے اور اسی وجہ سے بعض محققین کا رجحان ہے کہ نجران کا وفد دوبار مدینے آیا، لیکن ہمارے نزدیک وہی بات راجح ہے جسے ہم نے اُوپر مختصراً بیان کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں