پاکستان آرمی کا بنیادی اور سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا ملٹی بیرل راکٹ لانچر

یہ ملٹی بیرل راکٹ لانچر اپنے بھاری راکٹ اور لمبی مار کی وجہ سے توپ خانے کی نسبت زیادہ بہتر ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
کچھ لوگ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ملٹی بیرل راکٹ لانچر سے کی گئ بمباری ، جنگی طیارے کے ذریعہ کی گئ بمباری کے برابر سمجھی جاتی ہے۔

سرد جنگ کے دوران بی ایم -21 سب سے مشہور ملٹی بیرل راکٹ لانچر تھا,
لیکن سویت یونین پاکستان کو کسی بھی صورت اپنا یہ سسٹم دینے کے لیے تیار نہ تھا۔
اس لیے پاکستان آرمی نے اسی طرز کا اپنا ملکی ساختہ ملٹی بیرل راکٹ لانچر بنانے کا فیصلہ کیا ۔

یہ مشن کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کو دیا گیا,
جس نے چند ہی سالوں میں ایک بہترین ملٹی بیرل راکٹ لانچر بنا کر پاک فوج کے حوالے کر دیا
جو کہ روس کے بی ایم-21 سے کئ گنا زیادہ بہترین اور اگریسیو سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے ادارے POF نے اس راکٹ لانچر میں استعمال ہونے والا “یرموک راکٹ” بنایا ہے, جس کی رینج کم ازکم 40 کلومیٹر تک ہے۔
یاد رہے کہ روسی ساختہ
بی ایم-21 کے راکٹ کی رینج صرف 20 کلومیٹر ہے۔

کمال کی بات یہ ہے کہ یرموک راکٹ کو اب گائیڈڈ راکٹ بنایا جا چکا ہے اور اسے سیٹلائٹ گائیڈڈ بنانے کے لیے مزید کام جاری ہے۔

پاکستان کے پاس اس وقت 200 سے زائد KRL-122 ملٹی بیرل راکٹ لانچرز موجود ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں