پاکستان آرمی کے راکٹ توپ خانے کا سب سے اہم رکن

ملٹی بیرل راکٹ لانچر اے 100 ای

کسی بهی جنگ میں ملٹی بیرل راکٹ لانچر بہترین دفاعی ہتهیار ثابت ہوتے ہیں.
خاص طور پر جب حملہ آور دشمن خطرناک اور بهاری ہتهیاروں سے لیس ہو.ایسا دشمن کسی بڑے شہر پر حملہ کر دے تو دشمن کو فوری طور پر روکنے کے لیے موثر اور تیز کاروائی کی ضرورت پیش آتی ہے,
جس کہ لیے ملٹی بیرل راکٹ سسٹم کام آتا ہے.

پاکستان شروع سے امریکی ساختہ ملٹی بیرل راکٹ سسٹم استعمال کرتا آیا ہے, جو کہ میڈیم رینج کے حامل تهے. کچهہ عرصہ پہلے انڈیا نے اپنے پناکهہ نام کے ملٹی بیرل راکٹ سسٹم بنانے کا اعلان کیا,
جس کے ساتهہ ہی پاکستان نے لمبے فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ لانچرز کے لیے کوششیں تیز کر دیں لیکن امریکہ نے پاکستان کو ہتهیار دینے پر پابندی لگا رکهی تهی, جس کے باعث پاکستان کو چینی
“ڈفینس وہیکل ریسرچ” ادارے کا سہارا لینا پڑا.
اس ادارے کے تعاون سے پاکستان لائسنس پر اے-100ای نام کے جدید لانگ رینج ملٹی بیرل راکٹ لانچر بنانے میں کامیاب ہو گیا.

ٹرک پر نصب اس ملٹی بیرل راکٹ سسٹم کا پہلا تجربہ
“عزم نو-3” مشقوں کے دوران کیا گیا,
جبکہ اب یہ نظام تیز ی سے پاکستان آرمی کا حصہ بن چکا ہے.

یہ نظام کسی بهی موسم میں 100 کلومیٹر تک کے لمبے فاصلے تک بیک وقت کئ راکٹ داغ سکتا ہے.
یاد رہے روس اور انڈیا کا مشترکہ بنایا ہوا پناکهہ راکٹ سسٹم 75 کلومیٹر رینج کا حامل ہے.

اے-100ای, 10 ٹیوب پر مشتمل ہے اور یہ سسٹم 10 سیکنڈ میں تمام 10راکٹ فائر کر سکتا ہے. اس نظام کا وزن 45 ٹن تک ہوتا ہے.

لاہور، سیالکوٹ، کراچی اور بارڈر کے قریب واقع علاقوں میں رہنے والے اب محفوظ ہو چکے ہیں
شاید ان شہریوں کو اپنے محسنوں کی تیاریوں کا علم ہو
یا نہ ہو.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں