پاکستان کو چینی کیمپ میں ہی رہنا ہے ۔ عمران کا ترین کو پیغام

پہلی دفعہ 1949 میں
لیاقت علی خان کو دورہ روس کی دعوت دی گئی تھی ،
کچھ معمولی وجوہات کی بنا پر روس کا دورہ نہیں ہو سکا ،

اسی دوران پنڈت جواہر لعل نہرو نے امریکی دورہ کیا ، پاکستان کو لگا کہ ہمیں بھی امریکہ سے راہ و رسم بڑھانے چاہئیے.
1950 میں امریکہ سے دورے کی دعوت ملی ، فیصلہ ہو گیا کہ امریکی دورہ کیا جائے گا ، امریکی صدر ٹرومین نے
اپنا ذاتی جہاز
پاکستانی وزیر اعظم ،ان کی اہلیہ و وفد کو لینے لندن ایئر پورٹ بھیجا ،
ان سب کو لیکر یہ جہاز لوزیانہ پہنچا ، انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیا ، یہ 23 روزہ دورہ تھا ۔
72 سال بعد پاکستان کو موقع مل رہا ہے ،
کہ روس یا امریکہ ؟
ظاہری سی بات ہے اب کی بار روس ،
جب کہ امریکی مکروہ چہرہ دیکھا جا چکا ہے ،
اپنے دوستوں کو ہی مارتا ہے

اب تو ہر گز توازن قائم کرنے کی کوشش نا کی جاۓ ،
کہ روس ، اور چین کیساتھ توازن قائم کر کے چلا جا سکتا ہے ،
اگرچہ امریکہ ختم ہو چکا ہے ،

اس کے پیچھے اسرائیل ، بھارت چھپے ہیں ۔ ۔ ۔ چین مستقبل ہے ، پاکستان ، روس کو نزدیک چین لایا ہے ، پاکستان ، چینی کیمپ میں ہے ۔
چین اور روس چاہتے ہیں ، پاکستان مکمل امریکہ کو خدا حافظ کہہ دے ،
دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کو بہت بڑی بڑی آفرز ہیں ، افواج پاکستان جنرل راحیل کے دور میں ہی فیصلہ کر چکی تھیں ، چینی کیمپ ، امریکی پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہونا ، یہ پابندیاں لگنی ہی لگنی ہیں ۔
نیوکلیئر انرجی اور ایل این جی ،

نیوکلیئر انرجی کا میڈیکل فیلڈ میں استعمال ، سب کچھ پاکستان کیلئے تیار ہے ،
انسداد دہشت گردی کیلئے جدید ترین اسلحہ کی فراہمی ، فرینڈ شپ 2020 ، عریبین مون سون 2021 کی طرز پر ملٹری و نیول ایکسر سائزز کا انعقاد ۔۔ اور بھی بہت کچھ ، لیکن ، امریکہ سے جان چھڑاوٰ ۔
یہ بات طے پا چکی ہے ، افغانستان جنگ کا پاکستان کسی صورت حصہ نہیں بنے گا ، ٹرمپ جو دوحہ ایگریمنٹ کر گیا تھا ، وہی فالو کرنا ہو گا ، امریکہ کو ۔ پاکستان صرف مذاکرات / ڈائیلاگ کا ساتھ دے گا ۔ ۔ ۔ یہ امریکہ کیلئے ، ٹرائیکا کیلئے ناقابل برداشت صورت حال ہے ،

جبکہ چین کا ایک خواب ہے عالمی لیڈر بننے کا ، اس راستہ میں دو رکاوٹیں ہیں ،
ساؤتھ چائنہ سی اور بھارت ۔ ۔ ۔ ایشیا میں دو ہی ممالک ہیں جن کو مکمل قابو کرنا ہے ،
بھارت ، جاپان۔
بھارت کو پاکستان کے ذریعے ، جاپان کو نارتھ کوریا کے ذریعے قابو کیا گیا ہے ۔
بھارت جانتا ہے چین اور پاکستان نے اسکی ہر اہم ترین چیز نشانے پر رکھی ہوئی ہے ، ایسی ٹیکنالوجی ہے ، جسکا توڑ کوئی نہیں ،
بھارت پر جب بھی حملہ ہو گا چار اطراف سے ہو گا ، سائبر ، پانی ، فوجی بری ، بحری ، فضائی ،
پاکستان کے بھارت حالات کو سمجھ چکا ہے ،
تبھی دوستی کے نام پر وقت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
ٹرائیکا نے جنگ لازمی کرنی ہے ، اسرائیل ، امریکہ کا کیا ہو گا ، میں نہیں جانتا ،
مگر بھارت کیساتھ جو ہو گا ، وہ انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا ۔ ۔ ۔
خفیہ طاقتوں کی جانب سے پیغام دیا جا چکا ہے ، دنیا کو ، تیل پر ہونیوالی جنگیں اب پانی پر ہونگی
كملا حیرث ، امریکی وائس پریزیڈنٹ کے الفاظ ، خفیہ طاقتوں کے ارادوں کی نشان دھی سمجھیں ۔ ۔ ۔ یا انکی مستقبل قریب کی پالیسی ، تاریخ کا مطالعہ کریں تو پہلی جنگ عظیم ، دوسری جنگ عظیم سے پہلے جو دنیا کے حالات بناۓ گئے تھے ، آج بلکل وہی حالات موجود ہیں ۔
تیسری جنگ عظیم ھرمجدوں بھی ہونی ہے ، غزوہ ھند بھی ہونا ہی ہونا ہے ، صف بندیاں جاری ہیں ،
پاکستان کو بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانے ہیں ، آخری معرکہ حق و باطل کا ہی ہونا ہے ، آج کے فیصلے آنے والے کل پر اثر انداز ہونگے ، صحیح فیصلہ ، ثابت قدمی سے فیصلوں پر ڈٹ جانا کامیابی ہو گا ۔ ۔ ۔ چینی کیمپ ۔ ۔ ۔ نیا مسلم بلاک ، نیو بلاک ۔ ۔ ۔

عمران خان نے جہانگیر ترین کو پیغام دیا ہے ، آپ کیخلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی ، تحریک انصاف کا نعرہ ہے ، احتساب ، ایک ہی طریقہ ہے ، گلے شکوے ، سیاسی بلیک میلنگ کی بجاۓ ، اداروں / ایف آئی اے سے کلین چٹ لیں ،
تحریک انصاف میں واپس آ جائیں ، آپ کل بھی ہمارا اثاثہ تھے ، آج بھی ہیں ، لیکن ، کلین چٹ ۔ ۔ ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں