پاکستان کو کشمیرسمیت تمام تنازعات پرمذاکرات کی بھارتی پیشکش، طاقت کے مراکز میں سوچ بچار

معتبر ذرائع اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین ابتدائی بامقصد رابطوں اور بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر سمیت جملہ متنازعہ اُمور پر باضابطہ مذاکرات کی پیشکش کی تصدیق کرتے ہیں جسے قبول کرنے کے لئے طاقت کے مراکز میں سوچ بچار جاری ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ اگر بھارت نے ماضی کی طرح ایک بار پھر پسپائی اختیار نہ کی اور مذاکرات کو وقتی سیاسی و سفارتی فوائد کے لئے استعمال نہ کیا تو دونوں نیو کلیئر ریاستوں کے مابین مستقبل قریب میں کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا عمل شروع ہو سکتا ہے ۔ ان ذرائع کے مطابق ماضی کے برعکس اس بار مذاکرات کی پیشکش بھارت کی جانب سے موصول ہوئی اور مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت کے لئے آمادگی ظاہر کی، اس خواہش کے ساتھ کہ پاکستان 5اگست کے اقدام کی واپسی کی پیشگی شرط عائد نہ کرے اور ’’جامع مذاکرات ‘‘کی بحالی کے بجائے ’’گروپ ڈائیلاگ‘‘ کی تجویز پر غور کرے جس کا مطلب ہے کہ مسئلہ کشمیر، سیاچن، دہشت گردی اور دراندازی، سرکریک اور آبی تنازعہ وغیرہ سمیت ہر متنازعہ مسئلہ کے لئے الگ الگ مذاکراتی گروپ تشکیل دیا جائے تاکہ ایک گروپ میں ڈیڈ لاک سے دوسرے تنازعہ کے بارے میں مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو اور جس تنازعہ کے حل پر اتفاق رائے ہو اُسے معاہدے کی شکل دینے میں آسانی رہے ۔ بھارتی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرنے کے خواہش مند حلقے کی رائے میں 5اگست 2019ء کے اقدام کے بعد بھارت کی عالمی اور علاقائی حیثیت بُری طرح متاثر ہوئی، پاکستان کی جارحانہ سفارتی پیش رفت کے باعث امریکہ اور یورپی ممالک کے دارالحکومتوں میں بھارت ایک ایسی ریاست تصوّر کیا جانے لگا جو بدترین نسلی اور مذہبی تعصب و امتیاز کی علمبردار ہے ، مودی کو ہٹلر کی طرح نازی ذہن کا مالک باور کیا جانے لگا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کر کے وہاں کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ، جموں و کشمیر کے مختلف شہری علاقوں میں قدم قدم پر فوجی دستوں کی تعیناتی،حریت کانفرنس کے علاوہ بھارت کی حامی سیاسی قیادت ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر فاروق عبداللہ،محبوبہ مفتی کی گرفتاری و نظربندی کے علاوہ ذرائع مواصلات انٹرنیٹ وغیرہ کی بندش سے پاکستان کا یہ موقف درست ثابت ہوا کہ بھارت تنگ نظر ہندو ریاست ہے جہاں مسلمانوں سمیت کسی اقلیّت کی عزت،جان، مال محفوظ نہیں اور برس ہا برس سے وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی، دراندازی کا جو پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے وہ دراصل اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش تھی،بھارت نے یہ اقدام بنیادی طور پر کشمیری عوام کی پُرامن جدوجہد اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا مگر دنیا میں کہیں بھی اس کے موقف کو پذیرائی نہیں ملی اور اندرن ملک بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اسلام آباد میں بھارت کی طرف سے مذاکرات کی تجویز کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ 1962ء کے بعد پہلی بار مودی کی تنگ نظر ریاست چین کے ساتھ محاذآرائی کے باعث شمالی محاذ پر خطرات سے دوچار ہے ۔ پاکستان کی دو سٹرائیک کور کے مقابلے میں تین سٹرائیک کور کے حامل بھارت نے بامر مجبوری ایک سٹرائیک کور شمال کو روانہ کی اور اگنی میزائلوں کا رخ بھی شمال کی جانب ہے جہاں اسے چین کے غیر فوجی دستوں نے ہزیمت سے دوچار کیا اور کئی متنازعہ علاقوں پر قبضہ کر لیا، کم و بیش بیس سے زائد علیحدگی پسند تحریکوں سے نبردآزما مودی سرکار کے لئے ٹوفرنٹ تھریٹ سے نمٹنا مشکل نظر آ رہا ہے اور وہ پاکستان سے مذاکرات کا آغاز کر کے اپنے عوام کے علاوہ اندرون ملک بیرونی سرمایہ کاروں، امریکہ و یورپ کے علاوہ خلیجی و عرب دوستوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کی فوجی سرحد پر کشیدگی کم ہو رہی ہے اور مسئلہ کشمیر اب دو نیوکلئیر ریاستوں کے مابین فلیش پوائنٹ نہیں۔ بھارت مذاکرات میں پاکستان کو انگیج کر کے امریکہ و یورپ کے سفارتی دبائو سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے جو ماضی کے تجربات کے پیش نظر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی بنا پر ایٹمی بحران کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مذاکرات کی اس پیشکش کو قبول کرنے میں بنیادی رکاوٹ مسئلہ کشمیر سے پاکستانی عوام کی جذباتی وابستگی اور موجودہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ جب تک بھارتی حکومت 5اگست کے اقدامات واپس نہیں کرتی مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کشمیری عوام کی جدوجہد سے بے وفائی اور مودی کے نازی اقدامات کی توثیق ہے ۔ اقتدار کے مراکز میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ دو نیو کلیئر ریاستوں کے مابین ڈیڈ لاک کو ختم کرنے ، کشمیری عوام کی انسانی مشکلات میں خاطر خواہ کمی اور جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے دورس نتائج کی حامل بھارتی حکمت عملی میں رکاوٹ ڈالنے کی مذاکرات کے علاوہ کوئی قابل عمل صورت نظر نہیں آتی کیونکہ براہ راست جنگ اور پراکسی وار کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں اور کشمیری عوام کی نسل کشی روکنے ،پاکستان کو معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لئے امن کا وقفہ درکار ہے ، بھارت طویل عرصے بعد اندرونی اور بیرونی سطح پر سیاسی، سفارتی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے ، وہ ماضی میں مذاکرات کی پاکستانی پیشکش کو حقارت سے رد کرنے کے علاوہ صرف دراندازی اور دہشت گردی پر مذاکرات کی شرط لگاتا تھا مگر اب جموں و کشمیر پر مذاکرات کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانے پر آمادہ ہے جس کا فائدہ اٹھا کر ہم قومی وسائل اور انسانی کاوشوں کا رخ معیشت کی بحالی کی طرف موڑ سکتے ہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف انتہا پسند مودی کے دور میں حل ہو سکتا ہے ،کانگریس اس کی اہل نہیں اور پاکستان میں بھی عمران خان غیر مقبول فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جنہیں ریاستی اداروں کی خوش دلانہ تائید و حمائت حاصل ہے ۔ اگرچہ باخبر حلقے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ اور دیگر دوست ممالک کے دبائو کی تردید کرتے ہیں لیکن دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ان ممالک کی خواہش کسی سے مخفی نہیں اور یہ بات خارج از امکان نہیں کہ دونوں ملک یکساں نوعیت کے سفارتی دبائو کا شکار ہوں، مذاکرات کرنے نہ کرنے کے حوالے سے سوچ بچار کے دوران فی الحال دونوں طرف کی کشمیری قیادت سے رابطوں اور تبادلہ خیال کی کوئی اطلاع نہیں اور اس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے جب بھارت کی اس بظاہر سنجیدہ پیشکش کے مضمرات‘ نتائج و عواقب کا بھر پور جائزہ لے کر اسے قبول کرنے کا اُصولی فیصلہ کر لیا جائے ۔ ماضی کے تلخ تجربات اور کہہ مکرنیوں کی طویل تاریخ کے پیش نظر یہ سوچ بھی موجود ہے کہ بھارت کہیں پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لا کر عالمی برادری کی توجہ جموں و کشمیر کے تنازعہ، انسانی حقوق کی پامالی، گرتی ہوئی معیشت اور ملک کے طول و عرض میں بے چینی سے ہٹانے کے درپے تو نہیں اور اس تجویز کا مقصد پاکستان اور مقبوضہ و آزاد جموں و کشمیر کی قیادت اور عوام کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنا، پاکستانی حکومت اور عوام پر کشمیری عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا اور 5اگست کے اقدامات کا جواز فراہم کرنا تو نہیں۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کی یہ پیشکش ابھی تک کابینہ کی سطح پر زیر بحث آئی ہے نہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر لائی گئی ہے ، برین سٹارمنگ کا عمل جاری ہے ، تجویز کے حسن و قبح پر سیر حاصل بحث و تمحیص کے بعد قبولیت و عدم قبولیت کا فیصلہ کئے جانے کی اُمید ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں