کورونا وباء کے خدشات تاحال برقرار ہیں

سربراہ لاہور پولیس ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا ہے کہ صوبائی دارلحکومت میں کورونا وباء کے خدشات تاحال برقرار ہیں جس کے پیش نظر شہریوں اور سپاہ کو سخت احتیاط برتنے کی اشدضرورت ہے۔لاہور پولیس کورونا وباء کی تیسری لہر کے دوران شہروں کے تحفظ کیلئے الرٹ اور پُرعزم ہے۔غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ کورونا وبا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران لاہور پولیس کے مجموعی طور پر 644 اہلکار متاثر ہوئےجبکہ
604 افسران اور اہلکاروں نے کورونا وباء کو شکست دیکر دوبارہ فرائض سنبھالے۔سی سی پی او لاہور نےکہا کہ کورونا وباء کے دوران لاہور پولیس کے 04 سپوت فرض کی راہ میں قربان ہوئے جبکہ کورونا کی حالیہ لہر کے دوران لاہور پولیس کے 36 افسران اور اہلکار ابھی گھروں میں قرنطینہ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق کورونا وباء سے 02 ڈی آئی جیز، 03 ایس ایس پیز رینک کے سینئر افسران،07 ایس پی رینک کے افسران،17 ڈی ایس پیز،22 انسپکٹرز، 58 سب انسپکٹرز اور 102 ٹریفک وارڈنز نے کورونا کو شکست دی نیز 49 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز،59 ہیڈ کانسٹیبلز اور 286 کانسٹیبلز بھی کورونا سے متاثر ہوئے۔اس کے علاوہ لاہور پولیس کے مختلف دفاتر میں تعینات سنئیر و جونیئر کلرکس سمیت متعدد کلیریکل سٹاف بھی کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔کورونا وباء کے دوران لاہور پولیس نے بہترین اور پروفیشنل انداز میں فرائض سرانجام دئیے۔کوروناوباء میں شہریوں کے تحفظ پر مامور تمام محکموں میں سب سے زیادہ لاہور پولیس متاثر ہوئی۔ سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ پولیس نے قرنطینہ مراکز، ہسپتالوں، ناکوں، کیشن سنٹرز پر الرٹ ہوکر فرائض سرانجام دئیے۔سی سی پی او لاہور نے مزید کہا کہ لاہور پولیس نے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے شہریوں کی سیکورٹی اور سیفٹی کو یقینی بنایا۔ غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ لاہور پولیس نے کورونا وباء کے دوران شہریوں کی خدمت کرتے ہوئے فرنٹ لائن سولجرز کا کردارکیا۔
سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر نے پولیس فورس کو حفاظتی ماسک کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔سی سی پی او آفس سمیت لاہور پولیس کے تمام دفاتر میں شہریوں کو ماسک پہننے کی تاکیدکی گئی ہے۔ایس ایس پی ایڈمن وقار شعیب قریشی نے اس حوالے سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس خدمت مراکز اور ڈرائیونگ ٹیسٹ سنٹرز پر اہلکاروں اور سائلین کو تھرمل گن سے ٹمپریچر چیک کرنے اور ماسک کی پابندی کے بعد ہی داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔اہلکاروں اور سائلین کےلئے دفاتر میں ہاتھ دھونے کا مناسب بندوبست کیا جائے۔وقار شعیب قریشی نے کہا کہ بغیرماسک کسی بھی شخص کوپولیس سے متعلقہ دفاتر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کورونا وباء سے بچا جاسکتا ہے۔وقار شعیب قریشی نے کہا کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کیلئے حکومتی گائیڈ لائنز کی پاسداری کی جاے
سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے مزید کہا ہے کہ شہر سے کلاشنکوف کلچر کے خاتمے کے لئے لاہور پولیس کا کریک ڈاون تیزی سے جاری ہے۔سربراہ لاہور پولیس نے سیشن کورٹ کے باہر ناجائز اسلحہ لے کر آنے والے قانون شکن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیوں پر انچارج سکیورٹی سیشن کورٹ انسپکٹر مبشر اعوان کو شاباش دی ہے۔سیشن کورٹ ججز گیٹ سے آج بھی اسلحہ سمیت ایک اور ملزم گرفتار کر لیا گیا۔قاسم نامی ملزم سے پسٹل اور زندہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق رواں سال کے دوران سیشن کورٹ کے باہر اسلحہ کی نمائش پر متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔لاہور پولیس نے رواں سال کے دوران ناجائز اسلحہ اور نمائش کے خلاف جاری مہم کے دوران شہر بھر سے مجموعی طور پر01 ہزار 793 ملزمان گرفتار کرکے متعلقہ تھانوں میں 1777 مقدمات درج کئے۔ملزمان کے قبضہ سے 33 جدید کلاشنکوفیں،232 بڑی رائفلیں،135 بندوقیں،1510 پسٹل،26 ریوالورزاور 18ہزار 882 گولیاں برآمد برامد کر لیں۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنےوالوں کےخلاف بھی کریک ڈاون کیا گیا۔شہر بھر میں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہے۔نقص امن اور شریف شہریوں کےلئے خوف و ہراس کا باعث بننے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔سی سی پی او لاہور نے تمام ڈویژنل افسران کو کلاشنکوف کلچر کے خاتمے کیلئے کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں