‎لاہور ہائیکورٹ نے نیب کیخلاف ضمانت کیلئیے مریم نواز سے رابطہ کرلیا

ہمارے ذرائع کے مطابق

یہ بظاہر ایک خبر ہے لیکن آج جمہوریت خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔ قوم کی بیٹی کو پیشیوں میں بلا کر سیاسی انتقام لیا جارہا ہے اور ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے وغیرہ وغیرہ کے نعرے بھی سننے کو مل سکتے ہیں ۔
لیکن جب یہی قوم کی بیٹی منہ بھر بھر کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے ، ملک کے وزیراعظم کے خلاف بکتی ہے اسوقت نیک اور شریف والدین توبہ کا ورد کرتے ہیں کہ کہیںں انکی بیٹیوں پر اس نام نہاد “ قوم کی بیٹی “ کی پرچھائیں نہ پڑ جائے ۔

نیب میں جب پٹواریوں کی باجی عرف کیلیبری فونٹ کی ماہر ڈاکٹر مریم سے چوہدری شوگر مل کے دس ملین کے شیئرز کے متلق سوال کیا گیا تو اس نے مدعا مرے ہوئے دادا پر ڈال دیا کہ دادا نے اسے یہ شیئرز گفٹ کیے تھے ، جبکہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دادا کا انتقال دوہزار چار میں ہوا اور شیئرز دوہزار آٹھ میں مریم کے نام منتقل کئے گئے ۔
یوتھیوں تمہیں کیا معلوم دادا کا پیار اور محبت کیسی ہوتی ہے ؟ محبت دیکھنا ہے تو مریم کے دادا کی دیکھو جو مرنے کے چار سال بعد اپنی “ قبر” سے پوتی کو شیئرز گفٹ کر رہا ہے ۔
باقی جہاں تک بوبی بھائی کو علم ہے اور جسکا مریم اکثر زکر بھی کرتی رہتی ہے کہ اسکا سورس آف اِنکم “دیسی پورن ہب” ہے جسکی یہ سی ای او ہے ۔ یہاں بڑے عہدے داروں اور سیاستدانوں کے “ٹوٹے “ جمع کیے جاتے ہیں اور جنہیں وہ بوقت ضرورت انہیں بلیک میل کرنے کے کیے استعمال کرتی ہے ۔

یوتھیوں —————ایسے ہی بلینز کی جائیدادیں نہیں بنتیں اسکے لیے گخفیہ طور پر کسی کی زندگی کے گرم اور پرجوش لمحات کی عکاسی کرنا پڑتی ہے پھر اسے ایڈٹ کر کے ترتیب سے رکھا جاتا ہے تاکہ وقت پر صیح جگہ فائر کیا جاسکے ۔
تو حضور والا یہ ہیں وہ زرائع جہاں سے شریف خاندان کی جائیدادیں بنیں اور ایمپائرز کھڑی کی گئیں ۔امید ہے کہ مریم کی یہ وضاحت نیب کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوگی ۔ ۔۔۔۔۔
لخ دی لعنت تواڈے تے ، کم نیلی فلماں دے تے نخرے کوئین الزنٹھ دے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں