17 رمضان: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یوم وفات

آج ام المومنین صدیقہ عالم جناب عائشہ کا یوم وفات ہے۔ آپؓ نے 17 رمضان 58 ہجری، بروز منگل 66 سال کی عمر میں اس دار فانی سے پردہ فرمایا تھا۔
حضرت عائشہؓ پیغمبر اسلام ﷺ کی صغیر سن زوجہ تھیں اور آپ نے انہیں شرف زوج اپنے دوست اور صحابی حضرت ابو بکرؓ کے احترام میں عطا کیا تھا

🌴🌴ولادت

حضرت عائشہؓ کی تاریخ ولادت کے متعلق تاریخ و سیرت کی تمام کتابیں خاموش ہیں۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔

ان کا لقب صدیقہ تھا، ام المومنین ان کا خطاب تھا جبکہ نبی مکرم محمد ﷺ نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے اور کبھی کبھار حمیرا کے
لقب سے بھی پکارتے تھے۔
🌴🌴نکاح

ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ ہجرت سے 3 برس قبل حضور اکرم ﷺ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور 9 برس کی عمرمیں رخصتی ہوئی۔ ان کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا۔

🌴🌴وفات

سن 58 ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنینؓ اور رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔

ماہ رمضان کی 17 تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہؓ نے وفات پائی۔ آپؓ 18 سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں اور وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

حضرت عائشہؓ اوراحادیث نبوی

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت و امانت میں امتیاز حاصل تھا۔ ان کا حافظہ بہت قوی تھا جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں۔
حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔ حضرت عائشہ نے 2 ہزار 2 سو 10 احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی۔

دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے ام المومنین عائشہؓ سے زیادہ رسول اللہ محمد ﷺ سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو۔ صدیقہؓ سے 174 احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری و مسلم میں ہیں۔
خطۂ ارض پر طبقۂ اناث میں امہات المؤمنین یا ازواج مطہرات کا وہ طبقہ نہایت پاکیزہ ترین ، ۔ معزز ترین اور محترم ترین طبقہ ہے جنہیں یہ خصوصیات اور عزت واحترام نبی ﷺ کے حبالئہ عقد میں شا مل رہنے کی وجہ سے حاصل ہیں قرآن نے گرچہ کسی ایک امّ المؤمنین کا بھی نام نہیں لیا ہے مگر ’’امہات ‘‘ اور ’’ازواج‘‘ کے الفاظ استعمال کر کے سبھی امہات المؤمنین اور ازاوج مطہرات کو یہ شرف اور اعزاز بخشا ہے کہ وہ عام مسلمان عورتوں کے نسبتا احترام و عزت اور شرف واعزاز میں حد درجہ افضل و اکرم ہیں۔
۔قرآن میں ہمیں سب سے پہلے سورہ احزاب کی یہ آیت ملتی ہے جس میں پیغمبر ؑ کی بیویوں کو مومنوں کی ماؤں سے تعبیر کر کے عام مسلمانوں کو ان کی عزت اور احترام ملحوظ رکھنے کی ہدایت اور تعلیم دی گئی ہے ۔چنانچہ قرآن کہتا ہے:
۱) ترجمہ: ’’نبی کا مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق ہے ،اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں،اور اللہ کے حکم میں مسلمانوں اور ہجرت کرنے والوں سے زیادہ آپس کے رشتہ داروں کا ایک دوسرے پر حق ہے سوائے اس کے کی تم اپنے دوستوں کے ساتھ احسان کرو،یہ
کتاب کا لکھا ہے ۔‘‘

اللہ نےایک اور مقام پر فرمایا
’’یاایھا النبی قل لازواجک ………اجرا عظمیا(۳)ترجمہ : ’’اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اورا ٓخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو) کہ تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں