سیرت النبی ﷺ

سیرت النبی ﷺ ۔۔۔ قسط: 190

غزوہ احزاب وقریظہ کے بعدکی جنگی مہمات:

4۔ غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریسیع:

یہ غزوہ جنگی نقطۂ نظر سے کوئی بھاری بھرکم غزوہ نہیں ہے، مگر اس حیثیت سے اس کی بڑی اہمیت ہے کہ اس میں چند واقعات ایسے رُونما ہوئے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اضطراب اور ہلچل مچ گئی اور جس کے نتیجے میں ایک طرف منافقین کا پردہ فاش ہوا تو دوسری طرف ایسے تعزیری قوانین نازل ہوئے جن سے اسلامی معاشرے کو شرف وعظمت اور پاکیزگی کی ایک خاص شکل عطا ہوئی۔ ان میں ایک افک کا واقعہ اور دوسرا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کا واقعہ قابل ذکر ہے۔

یہ غزوہ عام اہل سیر کے بقول شعبان ۵ ھ میں اور ابن اسحاق کے بقول ۶ ھ میں پیش آیا، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ بنو المصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے لیے اپنے قبیلے اور کچھ دوسرے عربوں کو ساتھ لے کر آرہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کو تحقیق حال کے لیے روانہ فرمایا، انہوں نے اس قبیلے میں جا کر حارث بن ضرار سے ملاقات کی اور بات چیت کی اور واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالات سے باخبر کیا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر کی صحت کا اچھی طرح یقین آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور بہت جلد روانہ ہوگئے، روانگی ۲/شعبان کو ہوئی، اس غزوے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ منافقین کی بھی ایک جماعت تھی جو اس سے پہلے کسی غزوے میں نہیں گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کا انتظام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو سونپا تھا، حارث بن ابی ضرار نے اسلامی لشکرکی خبر لانے کے لیے ایک جاسوس بھیجا تھا، لیکن مسلمانوں نے اسے گرفتار کرکے قتل کردیا۔

جب حارث بن ابی ضرار اور اس کے رفقاء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روانگی اور اپنے جاسوس کے قتل کیے جانے کا علم ہوا تو وہ سخت خوفزدہ ہوا اور جو عرب ان کے ساتھ تھے وہ سب بکھر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چشمۂ مریسیع (“مریْسیع” قدید کے اطراف میں ساحل سمندر کے قریب بنو مصطلق کے ایک چشمے کا نام تھا) تک پہنچے تو بنو مصطلق آمادۂ جنگ ہوگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے بھی صف بندی کرلی، پورے اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور خاص انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا، کچھ دیر فریقین میں تیروں کا تبادلہ ہوا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے صحابہ کرام نے یکبارگی حملہ کیا اور فتح یاب ہوگئے، مشرکین نے شکست کھائی، کچھ مارے گئے، مسلمان کا صرف ایک آدمی مارا گیا، اسے ایک انصاری نے دشمن کا آدمی سمجھ کر مار دیا تھا۔ (صحیح بخاری کتاب العتق ۱/۳۴۵ فتح الباری ۵/۲۰۲ ، ۷/۴۳۱)

قیدیوں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، جو بنو المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں، وہ ثابت بن قَیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں مکاتب بنالیا، (مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے یہ طے کر لے کہ وہ ایک مقررہ رقم مالک کو ادا کرکے آزاد ہوجائے گا) پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی جانب سے مقررہ رقم ادا کرکے ان سے شادی کرلی۔

اس شادی کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو المصطلق کے ایک سو گھرانوں کو جو مسلمان ہوچکے تھے، آزاد کردیا کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال کے لوگ ہیں۔ (زادالمعاد ۲/۱۱۲، ۱۱۳ ابن ہشام ۲۸۹، ۲۹۰ ، ۲۹۴ ، ۲۹۵)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں