سندھ حکومت نے الیکشن سے 4 دن پہلے خزانے سے پیسے لیے ان کو عمران نہیں پوچھ سکتا کیونکہ 18ویں ترمیم سے وزیراعظم کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی صوبے کی حکومت سے پوچھے

عمران خان عدلیہ کو نہیں کہ سکتا یہ الیکشن کالعدم قرار دے کیونکہ عدلیہ سے براہراست وزیراعظم نہیں پوچھ سکتا یہ 19ویں ترمیم کی طاقت ہے

صدر اس بدبودار نظام کو پلٹ نہیں سکتا اسمبلیاں توڑ نہیں سکتا کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات ایوان کے پاس چلے گئے

وزیراعظم الیکشن کمیشن سے لیکر عدلیہ تک کسی کو نہیں پوچھ سکتا کہ غلط کام کیوں کرہے ہو

وزیراعظم عدلیہ سے بس درخواست کرسکتا ہے کے آپ کچھ کرو اور عدلیہ ہے کہ اللّه ماف کرے جب یہ حال ہے تو کچھ لوگ کہتے ہیں کے خان صاحب اب آپ ہار گئے ہو اس نظام سے اب آپ کچھ نہیں کرسکتے
عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو پتہ تھا کے اگر سینٹ کا الیکشن خان جیت گیا تو اکثریت خان کو مل جائے گی اور پھر 19ویں ترمیم اگر ختم ہوگئی جو کے چور دروازے سے پاس ہوئی ہے تو عدلیہ جو کے اس وقت فرعون بنے ہوئے ہیں ان کو سیدھا ہونا پڑے گا

پی پی اور نون لیگ کو یہ ڈر تھا کے اگر سینٹ میں اکثریت مل گئی تو 18ویں ترمیم ختم ہوجائے گی اور سندھ سمیت ہر صوبہ وفاق کے انڈر ہوگا ہر ادارہ وفاق کے انڈر ہوگا تو ہم کو کوئی نا بچا سکے گا اسی لیے سب مل گئے عدلیہ ۔ الیکشن کمیشن اور سرے عام جمہوریت کا جنازہ نکالا حالانکہ جمہوریت کا نعرا بھی ان کا ہی ہے

کیا جمہوریت سرعام لوٹ مار ہی کو کہتے ہیں زرا سوچئے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں