بدمعاش بھارت گھٹنوں پر آ رہا ہے

بدمعاش بھارت گھٹنوں پر آ رہا ہے

آج سے صرف ڈھائ سال پہلے تک بہترین جنگی صلاحیت کے باوجود کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہم اپنے دفاع کی ہر جنگ آہستہ آہستہ غیر محسوس انداز سے ہارتے چلے جا رہے تھے۔۔امریکہ، یورپی یونین،اقوام متحدہ ہو یا FATF جیسے ادارے ہوں۔

بھارت نے اپنی مضبوط خارجہ پالیسی کے بل بوتے پر ہمیں دیوار کے ساتھ لگا رکھا تھا، بھارت بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان اور فاٹا سے لے کر کراچی تک خون اور بارود کا کھیل کھیل رہا تھا لیکن دہشتگرد سٹیٹ کا تمغہ ہمارے سینے پر سجا ہوا تھا یہ ہماری ناتواں خارجہ پالیسی ہی تھی کہ ستر ہزار جانیں اور دیڑھ سو ارب ڈالر گنوانے کےبعد بھی پوری دنیا کےسامنےہم ہی برائی کا منبہ اور دہشتگردی کی جڑ تھے۔۔

اس تمام کے دوران حکمران ایسے چپ تھے جیسےانکے ہونٹوں کو سی دیا گیا ہو یا وہ خود کسی منصوبے کےتحت اس کھیل کا ایک حصہ ہوں۔ بھارت اور بخصوص کلبھوشن یادیو کےحوالے سے تکلیف دہ حد تک ایسی خاموشی اختیار کئیے ہوۓ تھے۔جس سے سفارتی تنہائی گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی تھی،دنیا کا کوئی اخبار،کوئی ٹی وی چینل اور کوئی پلیٹ فارم ایسا نا تھا جہاں ہمیں ملعون نا کیا جاتا ہو۔

اپنا سب کچھ گنوانےکےبعد بھی یوں لگتا تھا جیسے کل جہان کی مصیبتوں اور تباہیوں کی وجہ صرف ہم ہیں بین الاقوامی سطح پر ہماری حثیت کسی طور ایک “پنچنگ بیگ” سے زیادہ کی نہیں رہی تھی

لیکن الحمداللہ اب بازی پلٹ چکی ہے اور محض ڈھائ سال میں یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، کہاں ہم گہری سفارتی تنہائی کا شکار تھے اور کہاں اب دنیا کے بڑے بڑے فیصلے ہماری مشاورت اور مدد سے ہو رہے ہیں۔

ریاست کے تین اہم ترین عناصر میں دفاع تو پہلے ہی مضبوط تھا اور اب معیشت کی بحالی کا پہلا حصہ بھی مکمل ہو چکا ہے لیکن خوبصورت ترین پہلو ہماری خارجہ پالیسی ہے جہاں انتہائ قلیل مدت میں رب تعالی کی رضا سے ہم دشمن کو شکست در شکست دئیے جا رہے ہیں

افغان امن منصوبہ بھی ہماری رضامندی سے جڑ چکا ہے اور ایسی مضبوط خارجہ حکمت عملی کہ چند ماہ پہلے دنیا کی سب سے بڑی منڈی کی کشش بھی امریکی صدر سے مرضی کے دو بول ادا نا کروا سکی۔ آزاد کشمیر کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والے بدمعاش بھارت کو اب کنٹرول لائن پر امن چاہئیے،

جنوبی ایشیا کی ریاستوں کو ساتھ ملا کر ہماری ناکہ بندی کا بندوبست کرنے والا سفارتی تعلقات بحالی کا کٹورہ اٹھاۓ رحم طلب نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہا ہے یہ دن ہماری گزشتہ 33 سالہ خارجہ پالیسی کےسب سے بہترین دن ہیں جب ہم اندھیروں سے صرف آزاد ہی نہیں ہو رہے ہیں بلکہ حکمت عملی سے دشمن کی سجائی ہوئی سفارتی صفوں میں گھستے چلے جا رہے ہیں۔یہ سفر دشمن کے صف بندی کو ادھیڑ دینے تک جاری رہے گا۔ان شاءاللہ.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں