عورت مارچ زندہ باد

بابا جی کھیت میں بھینس کو جوت کر ہل چلا رہا تھا اور چھپر میں بیل صاحب آرام فرما رہے تھے _ کسی سیانے کا گزر ہوا _

اس نے بابا جی سے پوچھا :
” یہ کیا تماشا ہے ؟
تم نے بیل کو چھپر کے نیچے باندھا ہے اور بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے ! “

بابا جی نے کہا :
” یہ بی بی شہر سے آئی ہے _ اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کربھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے ، لہذا تم پہلے ہی دن اپنے مالک سے اپنے حقوق کی بات کرنا _

اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں _”

میں نے کہا : ” بیل تو ہل جوتتا ہے _”

اس نے کہا : ” میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں

چنانچہ میں نے اسے ہل جوتنے پر لگا دیا _ اب یہ خوشی خوشی کھیت میں بھی کام کرتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے _

بیل کے پاس کرنے کو کام نہیں ، لہذا وہ سارا دن چھپر میں آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے _

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں