نماز کے احکامات

2:کتاب الصلوٰۃ [ 15:اذان اور اقامت ]

حدیث : 62
الْحَدِيثُ الثٍانِي والستُّونَ
عَنْ أبي جحيفة – وهب بن عبد اللَّه السُّوَائِيِّ – قال : «أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ – وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنِ أَدَمٍ – قَالَ : فَخَرَجَ بِلالٌ بِوَضُوءٍ، فَمِنْ نَاضِحٍ وَنَائِلٍ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، حتى كَأَنِّي أَنْظُرُ إلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلالٌ. قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا، يَقُولُ – يَمِيناً وَشِمَالاً – : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ; حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَتَقَدَّمَ وَصَلَّى الظُّهْرَ والعصر رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ لم يَزَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إلَى الْمَدِينَةِ».

[رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب استعمال فضل وضوء الناس، برقم 187، وهو مفرق
في مواضع،376، 495، 499، 501، 633، 634، 3553، 3566، 5786، 5859، ومسلم، كتاب الصلاة، باب سترة المصلي، برقم 503.
]

معنی الحدیث:
حضرت ابو جحیفہ وھب بن عبد اللہ سوائی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سرخ رنگ کے چمڑے کے خیمے میں تشریف فرما تھے کہتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ مؤذن پانی لے کر باہر نکلے بعض کو پانی کے چھینٹے میسر آئے اور بعض نے پانی پی لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔آپ نے سرخ رنگ کا چوغہ زیب تن کیا ہوا تھا گویا میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں کہتے ہیں تو آپ نے وضوء کیا اور بلال نے اذان دی کہتے ہیں کہ میں اس کے چہرے کو اِدھراُدھر گھومتے دیکھنے لگا فرماتےہیں کہ وہ حَیَّ عَلَیَ الصَّلَاةِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ کرتے پھر آپ کے لیے زمین میں نیزہ گاڑ دیا گیا۔آپ آگے بڑھے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی پھر آپ دو رکعت ہی پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ واپس لوٹ آئے۔(بخاری و مسلم)

مفرداتُ الحدیث:
قُبَّةُٗ : خیمہ ۔
أَدَمُٗ : أَدَمْ یا اُدَمرنگے ہوئے چمڑے کو کہتے ہیں ۔
حَمْرَآءُ : سرخ رنگ ۔
وَضُوْء : واؤ اگر زبر پر ہو تو اس کامعنی پانی ہوتا ہے ۔
فَمِنْ نَاضِحٍ وَّنَائِلٍ : مراد اس جملے سے یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء سے بچا ہوا پانی تبرک سمجھ کر حاصل کرنے لگے:بعض پانی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بعض کے حصےمیں صرف چھینٹے ہی آئے۔
حُلَّةُٗ : چوغہ ۔
اَتَتَبَّعُ فَاهُ هٰهُنَا وَهٰهُنَا : میں اس چہرہ اِدھر سے اُدھر ہوتے دیکھنے لگا ۔
عَنَزَةُٗ : نیزہ ۔
رَجَعَ : لوٹ آئے ۔

مفہوم الحدیث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مکہ معظمہ کی ایک وادی بطحا میں خیمہ زن ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضوء کا بچا ہوا پانی لے کر خیمے سے باہر آئے تو صحابہ کرام یہ متبرک پانی حاصل کرنے کے لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کیطرف لپکے بعض کو تھوڑا سا پانی میسر آ گیا اور بعض کے نصیب میں صرف چھینٹےہی آئےحضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کودوگانہ نماز پڑھائی جتنےدن بھی آپ وہاں رہے دوگانہ ہی پڑھتے رہے۔نماز پڑھانے سے پہلے آپ کے سامنے ایک نیزہ گاڑدیا تھا کہ وہ سترے کا کام دے۔

احکام الحدیث:
:اذان کے دوران حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ کہتے ہوئے مؤذن اپنا چہرہ دائیں موڑے اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتے ہوئے بائیں اس طرح آواز ہر طرف پھیل جاتی ہے۔
دوران سفر دوگانہ پڑھنا مستحب ہے۔
امام کا نماز پڑھاتے ہوئے اپنے سامنے سترہ رکھنا مستحب عمل ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے پناہ محبت تھی آپ کے وضوء کا بچا ہوا پانی حاصل کرناوہ اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں