افغان امن عمل میں پاکستان سمیت عالمی برداری سے مشاورت

امریکہ

واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائز نے امریکی وزیر خارجہ کے افغان صدر اشرف غنی کو لکھے گئے خط کے حوالے سے کہا
میں نجی خط پر تبصرہ نہیں کر سکتا
تا ہم یہ واضح ہے کہ زلمے خلیل زاد نے 8 مارچ کو پاکستان کا دورہ کیا،
وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، زلمے خلیل زاد نے امن عمل میں پاکستان کی مدد پر اس کا شکریہ ادا کیا ۔
زلمے خلی لزاد نے 20 جنوری کے بعد اس خطے کا پہلا دورہ کیا اور اس سے امریکہ کی خطے میں سفارت کاری کے جاری رہنے کا پتہ چلتا ہے ، ہم افغان امن عمل کی حوصلہ افزائی ، جامع سیز فائر اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لئے پاکستان، دوحہ اور کابل میں موجود رہنماؤں سمیت عالمی برادری کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں ۔

امریکہ اور دیگر ممالک ملکر افغان امن عمل کو تیز کرنے کیلئے مختلف خیالات پر کام کر رہے ہیں۔
تا ہم اسی کے ساتھ یہ بھی خیال رکھا جارہا ہے کہ جو بھی خیال اور منصوبہ یا کوئی بھی پیشکش مذاکرات کی میز پر لائی جائے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ لازمی طور پر افغانوں کی رہنمائی اور افغانوں کی ذمہ داری میں ہی انجام پائے ۔ زلمے خلیلزاد، ان کی ٹیم اور انتظامیہ جو بات سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا حق اور ذمہ داری آخر کام افغانوں کی ہی ہے ۔عالمی برادری کو اس امن عمل میں تعاون کرنا اور مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔
ٹرمپ کی متنازع امیگریشن پالیسی کے تحت 13 مسلم یا مسلم اکثریتی ممالک کے باشندوں کو ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا
تا ہم موجودہ حکومت نے یہ پابندی اُٹھالی ،
ان ممالک میں ایران، شام، یمن، لیبیا، شمالی کوریا، میانمار، اریٹیریا، کرغیزستان، نائیجیریا، صومالیہ، سوڈان، تنزانیہ اور وینزویلا شامل ہیں۔
دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے
صدر اشرف غنی نے عہدہ چھوڑنے کی ایک امریکی تجویز مسترد کر دی ہے ،
دوسری طرف ترجمان افغان مفاہمتی کونسل کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل سے متعلق اجلاس 18مارچ کو روس میں ہو گا ،
افغان مفاہمتی کونسل کے ترجمان فریدون خوازون کا کہناہے کہ ماسکو اجلاس میں افغان صدر اشرف غنی، چیئرمین قومی مفاہمتی ہائی کونسل اورغیر ملکی مندوبین اور طالبان نمائندوں کی بھی شرکت متوقع ہے ،
افغان میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ماسکو اجلاس میں چین، امریکہ ، پاکستان کے مندوبین شریک ہوں گے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں