بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کی42 عسکری تنظیموں پر پابندی کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی42 عسکری تنظیموں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ۔ بھارتی پارلیمنٹ کو بتایا گیا ہے کہ ان تنظیموں کے نام غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ 1967 کے پہلے شیڈول میں درج کیے گئے ہیں۔ کے پی آئی کے مطابق بھارتی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کے ریڈی نے ایک سوال کے تحریری جواب میں لوک سبھا کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مجموعی طور پر 42 عسکریت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
جی کشن ریڈی نے کہا کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کل 42 تنظیموں پر حکومت نے پابندی لگائی ہے ، ۔ ریڈی نے بھی کہا کہ جموں و کشمیر میں 2018 سے 2020 کے درمیان سیکورٹی فورسز کے ذریعہ 635 عسکریت پسند مارے گئے ، جبکہ اس مدت کے دوران 115 شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 اگست2019 کو آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد تشدد کے واقعات میںنمایاں طور پر کمی آئی ہے ۔
کشن ریڈی نے کہاکہ جموں و کشمیر میں سال2019 میں 594انکائونٹریاجھڑپیں ہوئیں جبکہ سال 2020 میں244 عسکری واقعات رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ 2019میں 157جبکہ سال2020 میں 221 عسکریت پسند مارے گئے۔کشن ریڈی نے ایک تحریری جواب میں کہا کہ رواں برس فروری 2021 تک ، وسطی علاقوں میں15عسکری واقعات رونما ہوئے جن میں8 عسکریت پسند مارے گئے۔
بھارتی وزیر نے کہا کہ 2020 میں جموں و کشمیر میں33 سیکورٹی اہلکار اور 6شہری مارے گئے تھے جبکہ 2019 میں 27 سکیورٹی اہلکار اور 5 شہری ہلاک ہوئے تھے۔جی کشن ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملی ٹنسی کے خلاف زیرئو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں