سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے کیخلاف درخواستوں پر سماعت

لاہور ہائیکورٹ میں سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ۔

عدالت نے درخواستوں سماعت کے لیے منظور کر لی ۔

عدالت کا موجودہ آئی جی پنجاب اور سابق آئی جی شعیب دستگیر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔۔۔

عدالت نے درخواستیں پر سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی

عدالت نے موجودہ سی سی پی او ۔سابق سی سی پی او ذوالفقار حمید اور عمر شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

عدالت نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے آخری موقع دے دیا

عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں شعیب دستگیر کو ہٹانا اور انعام غنی کو انکی جگہ پر تعنیات کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ۔چیف جسٹس

دو عدالتی معاون اور درخواستگزار نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دییے جبکہ سرکاری وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا

سرکاری وکیل عبدالعزیز اعوان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا ۔

درخواستیں مفاد عامہ کی نہیں بنتی ۔سرکاری وکیل ۔

درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے ۔سرکاری وکیل

آئین پاکستان کے تحت مجھ سمت کوئی بھی شہری مفاد عامہ کی پیٹیشن دائر کر سکتا ہے ۔درخواستگزاران ۔

اسکا مطلب ہے کہ ملک کے بارہ کروڑ عوام کیس دائر کر سکتے ہیں؟ ۔چیف جسٹس

ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔چیف جسٹس ۔

اپ بتائیں کس طرح درخواست قابل سماعت ہے۔عدالت کا درخواستگزاران سے استفسار ۔

مفاد عامہ کے کیسوں کے بارے میں اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں ۔وقار اے شیخ عدالتی معاون۔

سپریم کورٹ نے پولیس کیس میں صرف پولیس ایکٹ کی قانونی حیثیت دیکھی۔وقار اے شیخ ایڈووکیٹ ۔

ایسے کیسوں میں آئین پاکستان کے 240 اور 242کے تحت عدالت کا دیکھنا ضروری ہے کہ ایسی تقرریاں قانون کے تحت ہوئیں ۔اویس خالد عدالتی معاون ۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد پولیس آرڈر میں ترامیم کر دی گئی ۔عدالتی معاون ۔

آئی جی پنجاب کی تقرری سیفٹی کمیشن کرے گا ۔وقار اے شیخ عدالتی معاون ۔

آئی جی کی تقرری کے لیے اریٹکل 11 اور 12 کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اویس خالد عدالتی معاون ۔

حکومت پنجاب ایسی تقرریاں وفاقی حکومت کی مشاورت سے کرے گی۔اویس خالد عدالتی معاون ۔

قانون کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی وقت کسی بھی پولیس افسر کی خدمات واپس لے سکتی ہے ۔اویس خالد۔

قانون آئی جی پنجاب کی تقرری کے لیے ساکت ہے۔اویس خالد ۔

1973 کے سول سرونٹ ایکٹ کے سیکشن 10 کے تھت آئی جی کی تقرری ہوتی ہے ۔سرکاری وکیل ۔

اپ گریڈ 17 کے افسر کو آئی جی بنا دیں دیکھنا ہوگا کہ یہ آئین پاکستان کے اریٹکل 11 کی خلاف ورزی تو نہیں ۔عدالت

حکمران بیٹھتے بیٹھائے قانون میں ترامیم کر دیتے ہیں ۔عدالت

محض کسی وکیل کے کیس دائر کرنے سے درخواست قابل سماعت نہین ہو جاتی ۔چیف جسٹس۔

ائین پاکستان کے تحت کوئی بھی شخص مفاد عامہ کی درخواست دائر کر سکتا ہے ۔درخواستگزار

آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او عمر شیخ کو ہٹانے کے نوٹیفیکیشن میں کیا غیر قانونی قباحت ہے ۔عدالت ۔

تمام آئی جی اور سی سی پی او کو تین سال مدت پوری ہونے سے قبل ہٹا دیا گیا ۔درخواستگزار

کیا اس درخواست میں موجود آئی جی پنجاب پولیس کی تقرری کو بھی چیلنج کیا گیا ہے ۔عدالت ۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے لیگی رہنماء ملک محمد احمد خان کی درخواست پر سماعت کی

درخواست میں وفاقی اورپنجاب حکومت کوفریق بنایاگیاہے

درخواست میں شعیب دستگیر، انعام غنی، ذوالفقارحمیداور عمرشیخ کو بھی فریق بنایا گیا ہے

پنجاب میں پولیس کے تبادلے پولیس آرڈر 2002 کےمطابق نہیں ہورہے۔درخواستگزار

آئی جی اور سی سی پی او کے تبادلے سیاسی بنیاوں پر کئے جا رہے ہیں، درخواست گزار

درخواست میں سابق آئی جیز اورسابق سی سی پی اوز کی تعیناتیوں کابھی ذکرکیاگیا ہے

کلیم امام 14 جون 2018ء سے 8 ستمبر 2018 ء تک صرف 3 ماہ تعینات رہے، درخواست گزار

محمد طاہر 8 ستمبر 2018ء سے 15 اکتوبر 2018ء تک صرف ایک ماہ تعینات رہے، درخواست گزار

امجد جاوید سلیمی 15 اکتوبر 2018ء سے15اپریل2019ء تک 6ماہ تعینات رہے، درخواستگزار

کیپٹن (ر) عارف نواز 15 اپریل 2019ء سے نومبر 2019 تک7ماہ تعینات رہے، درخواستگزار

شعیب دستگیرکو بھی 8 ماہ کے بعد تبدیل کردیاگیا، درخواست گزار

کسی بھی آئی جی کی تعیناتی کا عرصہ پولیس آرڈر 2002ء کےتحت پورا نہیں کیاگیا، درخواستگزار

بی اے ناصر 21 جون 2018ء سے 29 نومبر 2019ء تک تعینات رہے، درخواست گزار

ذوالفقارحمید 30 نومبر 2019ء سے 31 اگست 2020ء تک صرف 9ماہ تعینات رہے، درخواستگزار

تعیناتی کاعرصہ پورانہ کرنے والےآئی جی کے تبادلےکا اقدام کالعدم کیاجائے، استدعا

نئے آئی جی انعام غنی اور سی سی پی عمر شیخ کی تقرری غیر قانونی قرار دی جائے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں