وزیر اعظم عمران خان کے 16 مشیروں اور معاون خصوصی کی تقرریوں کے خلاف درخواست پر سماعت ۔

لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے 16 مشیروں اور معاون خصوصی کی تقرریوں کے خلاف درخواست پر سماعت ۔

عدالت نے درخواست پر سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی ۔

عدالت نے مشیروں کے کابینہ اجلاس کے بارے وفاقی سیکرٹری کابینہ ڈویژن اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے بیان حلفی طلب کر لیے ۔

عدالت کو بیان حلفی دیے جائے کہ یہ مشیر حضرات صرف کابینہ میں کسی ایشوز پر آتے ہیں ۔چیف جسٹس ۔

یہ مشیر حضرات سرکاری مراعات نہین لیتے ۔یہ بھی بیان حلفی دیا جائے ۔چیف جسٹس ۔

حفیظ شیخ نے کتنا تیکس دیا۔چیف جسٹس ۔

صرف کتابوں میں لکھنے سے جمہوریت نہین اہے گی۔چیف جسٹس ۔

اچھے معاشرے میں ناکامی پر خود استعفے دے دیے جاتے ہیں ۔عدالت ۔

کیا حفیظ شیخ کی ناکامی کے بعد حکومت کو کوئی اور اچھا معیشت دان نہین ملا ۔چیف جسٹس ۔

کیا جمہوریت میں ناکامی کے بعد بھئ ایسے لوگوں کو عکھا ضروری ہے ۔عدالت ۔

یہ لوگ صرف وزیراعظم کو رائے دے سکتے ہیں ۔عدالت۔

یہ لوگ کابینہ میں شرکت نہین کر سکتے ۔چیف جسٹس ۔

عدالت ننے وفاقی سیکرٹری کابینہ سے بیان حلفی طلب کر لیا ۔

سیکرٹری بیان حلفی دے گے کی ئہ مشیر صرف ایشو پر کابینہ میٹنگ میں آئے ۔چیف جسٹس

چیف جسٹس قاسم خان نے مقامی وکیل ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کی

درخواست میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، درخواستگزار

آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کی سفارش پر صرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا جا سکتا ہے، درخواست گزار

آئین کے آرٹیکل 2 اے کے تحت غیر منتخب شخص کے ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتا۔درخواستگزار

آرٹیکل 90کی ضمنی دفعہ 1 کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کے نہیں چلائی جا سکتی، درخواست گزار

وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کر نے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے فرائض انجام دینے کے اہل نہیں ہیں، درخواستگزار

وزیر اعظم کے دہری شہریت کے حامل مشیران خاص ریاست پاکستان کیلئے سکیورٹی رسک ہیں، درخواست گزار

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داﺅد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان کی بطور مشیر خان تقرری غیر آئینی قرار دی جائے، درخواستگزار

محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کو بھی وزیر اعظم کے مشیران کے عہدوں سے ہٹایا جائے، درخواستگزار

زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشر، ندیم افضل گوندل، شہباز گل اور تانیہ ایس اردس کو بھی مشیر خاص کے عہدوں سے ہٹایا جائے، درخواستگزار

عدالت آرٹیکل 90کی ضمنی دفعہ 1 کے تحت منتخب اراکین اسمبلی کو وفاقی وزراءکے عہدوں پر تعینات کرنے کاحکم دیا جائے، استدعا

عدالت درخواست کے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم کے تمام غیر منتخب مشیران خاص کو فوری طور پر کام سے روکا جائے، استدعا

عدالت درخواست کے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم عمران خان کو بھی ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے سے روکا جائے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں