پ پ ایم این ای ادی سیدہ نفیسہ شاھ جیلانی کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو محدود ہونے سے بچانے کیلئے پ پ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نام اوپن خط !

خیرپور میرس کا عوام پاکستان پیپلز کے چیئرمین بلاول بھٹو سے درخواست کرتا ہے کہ خدا رہ پیپلز پارٹی کے معیار کو تباھ ہونے سے بچانے کیلئے خیرپور سے منتخب ایم این ای سیدہ نفیسہ شاھ جیلانی کی انتقامی کارروائیوں کو روکا جائے !
کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایم این ای صاحبہ نے ہر اُس اِنسان کو اپنی طاقت اور اقتدار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مخالفین کو اِتنی اذیتیں دی جا رہی ہیں جِن کو دیکھ کافی عرصے سے کسی بھی برادری یا قبیلے کے لوگوں نے ابھی تک پیپلز پارٹی مخالف پارٹی کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان نظر نہیں آرہا ہا!
جبکہ ماضی میں جب تک خیرپور میرس میں پیپلز پارٹی کی سرگرمیاں سید قائم علی شاھ جیلانی سنبھالتے تھے تو ہر چار ماہ بعد کہیں نا کہیں سے ایسی خبریں سُننے میں آتی تھی کہ فلاں قبیلے کے فلاں بندوں نے اپنی پوری برادری کیساتھ پ پ مخالف فلاں پارٹی کو الوداع کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت کرتے تھے اور اِس سیاسی طرز عمل کی وجہ سے ہمیشہ خیرپور میرس پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعا نظر آتا تھا!

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جس دِن سے قابِل احترام ھاء کورٹ کے جج صاحبان نے سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم کروانے کیلئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو حُکم جاری کیا کہ تمام سرکاری زمینوں سے قبضے ختم کروائے جائیں!

اُسی ھاء کورٹ کے فیصلے کو خیرپور کی ایم این ای سیدہ نفیسہ شاھ نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خیرپور، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خیرپور اور اینٹی انکروچمنٹ انسپیکٹر کو صرف یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ ہر اُس عام شھری کے گھروں اور کاروباروں کو مسمار کیا جائے جنھوں نے کہیں نا کہیں کبھی نا کبھی جمھوریت کی پاسداری کرتے ہوئے اظھار کی آزادی کے حقوق کے تحت اینٹی پیپلز پارٹی کچھ بھی تھوڑا سا بھی کام کیا ہے تو اُن کو سخت تریں تکالیف، اذیتیں دی جا رہی ہیں !

جِس کے بعد پیپلز پارٹی جِس کو شھید ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی پارٹی کے نام سے جانا جاتا تھا اب اُس پیپلز پارٹی کو خیرپور میرس میں عوام دُشمن منصوبوں پر عمل پیرا دیکھ کر سندھ کے تاریخی شھر ثابقہ ریاست خیرپور میرس کے لوگ آہستا آہستا پیپلز پارٹی سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں اور صحافتی جائزے کے مطابق عوام کو اگر کوئی نیا چھرا نئی اُمید سیا سھارا مل گیا تو آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بیک کو بُھت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے اور اُس کی واحد ذمیواری پیپلز پارٹی کی ایم این ای ادی سیدہ نفیسہ شاھ پر عائد ہوگی!!

ہم شھید بھٹو اور شھید بی بی مُحترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی کو اِس طرح تباھ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہمارے بزرگوں نے ایم آر ڈی کے دور میں اور ایم آر ڈی سے پہلے پیپلز پارٹی کی بُنیادی تنظیم سازی میں اُس دِن سے حصیدار ہیں جِس دِن سے پیپلز پارٹی وجود میں آئی، جِس کی واحد دلیل یہ ہے کہ جب شھید ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کی بُنیاد رکھ رہے تھے تو اُنھوں نے سب سے پہلے خیرپور میرس میں اپنے دوستوں سے رابطے کرکے اُن کو اعتماد میں لیکر پارٹی کی بُنیاد رکھی!
شھید ذوالفقار علی بھٹو کے پُرانے ساتھیوں کی خدمات پر ایک الگ آرٹیکل ہیش کرونگا فلحال آخر میں بلاول بھٹو زرداری صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ خیرپور میرس کی تفصیلی رپورٹنگ لیکر عوام کیساتھ ہونے والی ناجائزی فوری بند کی جائے اِسی میں ہی پیپلز پارٹی کی بقاء اور سلامتی ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں