ہاں میں وہ ریس جیت چکا ہوں۔

2001 میں ایک ریس لگی تھی۔

نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے کی، جس پر عملدرامد کے لیئے ایشیاء میں افغانستان کو چنا گیا تھا.

کہ یہاں بیٹھ کر ایشیاء میں نیو ورلڈ آرڈر کا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے گا۔
جس میں ہندوستان کو کلیدی کردار ادا کرنا تھا،
دہشت گردی کیلئے. KPK میں TTP کو، بلوچستان میں BLF, BLA کو ، کراچی میں MQM کو
اور پنجاب میں پنجابی طالبا!ن کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو اندرونی طور پر خلفشار کا شکار کرنا شامل تھا،

اس ساری صورتحال میں مشرقی سرحد پر ہندوستان اور مغربی سرحد پر دہشت گردوں اور افغان فورسز کا مشترکہ دباؤ بڑھاتے ہوئے
پاکستان کو مکمل طور سے
“نیو ورلڈ آرڈر ” کے تابع کرنا اور ہندوستان کو خطے کا راجہ بنانا مقصود تھا۔

لیکن آج 20 سال بعد صورتحال بلکل الگ تھلگ ہے۔
امریکہ خطے میں نیو ورلڈ آرڈر کا خواب چکناچور کیے اپنی کمر تڑوا کر افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں آخری سسکیاں لے رہا ہے۔

ہندوستان اپنے ہی ملک میں اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جھلس رہا ہے،
اور ہر گزرتے دن کیساتھ یہ آگ بڑھتی جارہی ہے،
افغانستان میں موجود سرخوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے،
ایک ملک میں دو صدور نے خلف صدارت اٹھا رکھا ہے، جبکہ دونوں افغانستان میں موجود دو دو کلومیٹر کے علاقے کے صدر ہیں اور باقی علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے،

یعنی اس علاقے پر امریکہ بہادر، ہندوستان اور سرخوں کا کوئی کنٹرول نہیں۔
بنگلہ دیش جس کو ہندوستان نے ایک سازش کے تحت پاکستان سے الگ کیا
وہاں کے لوگ نریندر مودی کو اپنے ملک کا دورہ تک نہیں کرنے دے رہے،
ایران ہندوستان سے تقریبا” مکمل کٹ چکا ہے،

پاکستان ہر گزرتے دن کیساتھ معاشی اور دفاعی طور پر مستحکم ہوتا جارہا ہے،

ملک میں PSL کا کامیاب انعقاد ہوچکا ہے،

نہ امریکہ کے افغانستان میں پاؤں جمے، نہ ہی ہندوستان خطے کا راجہ بن پایا، نہ سرخے افغانستان میں حکمرانی قائم کرسکے،
اور نہ ہی دہشت گردی پاکستان کو توڑ سکی،

اور نہ ہی “نیو ورلڈ آرڈر” کی بیل منڈھے چڑھ سکی۔

آج دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہے
کہ 20 سال پہلے شروع ہونے والی ریس دنیا کی سپرپاور اپنے لاؤلشکر، اور مقامی نمک حراموں کی مکمل تائید و حمایت کے باوجود ہار چکی ہے،

اور اس ریس کا دوسرا فریق ایک کمزور سا ملک اللہ کے خاص کرم اور بہترین حکمت عملی کیساتھ پہلے سے مضبوط اور پرامن ملک کی حیثیت سے سینہ تانے دنیا کے نقشے پر پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

ہاں، وہ ریس جیت چکا ہے۔

ہاں اللہ ہی سب سے بڑا ہے

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں