مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا یہ کیمرے کس نے لگائے؟

پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی پارٹی ہے جو کبھی مدد کے بغیر نہیں جیت سکتی ہے اور نہ ہی حکومت بنا سکتی ہے ہے جس کا پاکستانی عوام نے 2018 کے الیکشن میں دیکھا کہ کس طرح کی مدد سے ان کو جتوایا گیا

ڈسکہ میں ہار کو دیکھ کر کس طرح پاکستان تحریک انصاف نے اوچھے ہتھ کنڈوں کو اپنایا
ڈسکہ الیکشن میں ہار کو دیکھتے ہوئے صبح شہر میں فائرنگ کروائی
پولنگ اسٹیشن بند کروائے
ووٹروں پر لاٹھی چارج کرایا جب پھر بھی ہار نظر آئیں تو پولنگ عملے کو ہی اغوا کر لیا

سینٹ الیکشن میں ہار نظر آئیں تو کبھی الیکشن کمیشن میں بھاگے کبھی سپریم کورٹ میں بھاگے اوپن بیلٹ کرو ایسا کرو ایسا کرو

اب جب چیئرمین سینٹ کا الیکشن ہونے جا رہا ہے تو حکومت نے وہاں پر کیمرہ نصب کروا دیے تاکہ عمران خان کو پتہ چلے گا اس کا کون کون سا سینیٹر برائے فروخت ہے

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ برائے فروخت نہیں بلکہ عمران خان اس کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں
جب یہ لوگ اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام ان سے سوالات کرتی ہے ان کے گلے پڑتی ہے

سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے پولنگ بوتھ میں کیمرہ لگا ہونے پر شدید احتجاج کیا اور بوتھ اکھاڑ کر سیکریٹری سینیٹ کی نشست پر رکھ دیا جس کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے پولنگ بوتھ دوبارہ بنانے کا حکم دیدیا
پریزائیڈنگ آفیسر مظفر شاہ نے کہاکہ پولنگ بوتھ دوبارہ بنے گا اور کوئی بھی فریق پولنگ بوتھ کو دیکھ سکے گا۔
مظفر شاہ نے کیمروں کی تحقیقات کے لیے سیکرٹری سینیٹ کو حکم دے دیا، تحقیقاتی رپورٹ نئے آنے والے چیئرمین سینیٹ کے سامنے رکھی جائے گی۔

عمران خان نہ کبھی عوامی ووٹ سے جیتے ہیں اور نہ ہی کبھی جیت پائیں گے
عمران خان ہمیشہ ہی غائیبی مدد اور ایمپائر کی انگلی کے منتظر رہتے ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں