پارلیمنٹ کے کیمرے اور آئی ایس آئی

تصویر میں دیا گیا کیمرا اومنی وِژن 6948 کیمرا ہےجسے بال سے بھی باریک تاروں کے زریعے لائیو ویڈیو ریکارڈنگ کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے. یہ تو وہ ہے جو ریکارڈ پہ ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اسے میڈیکل مقاصد کےلیے مختلف ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے. اب سوچیں کہ جو ریکارڈ پہ نہیں ہے وہ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ اور ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ آئی آیس آئی چک نمبر 226 کے گلی محلے میں پلنے والے بچوں کا کوئی گینگ ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کا پتہ نہیں. دنیا کی مایہ ناز سیکرٹ ایجنسیز میں سے ایک ہے جو کارروائی ڈال دے تو مہینوں بعد تک بھی دشمن کو احساس نہیں ہو پاتا کہ کوئی ہاتھ کر گیا ہے. یہ بھی ہوائی بات نہیں ہے بلکہ اس کے شواہد اور ثبوت موجود ہیں.
فروری 2019 میں بھارت کی ڈیفینس منسٹری سے رافیل ڈیل کے سینکڑوں کاغذات کاپی اور چوری ہو گئے تھے. البتہ آج تک پتہ نہیں لگا کہ چوری اور کاپی کس نے کیے تھے. میرا خیال ہے کہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ کس نے کیے تھے. 😄
ابھی انڈیا میں یہ شور تھما نہیں تھا کہ مئی 2019 میں انڈین ایئر فورس کے فرانس میں واقع آفس سے رافیل طیارے کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری ہو گیا. دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین ایئر فورس کا وہ دفتر پیرس کے مضافات میں جس علاقے میں بنایا گیا تھا اسے محفوظ ترین علاقہ سمجھا جاتا تھا. بعد میں فرانس اور بھارت کی انٹیلیجنس ٹیمیں جائے واردات پہ فرانزک کرتی رہیں مگر کوئی سراغ ہاتھ نا لگا کہ چوری کس نے کی. میں یہاں پھر نہیں بتاؤں گا کہ چوری کس نے کی تھی. تاہم جو ڈیٹا چوری اور کاپی ہوا تھا اس میں رافیل طیارے کی تمام تر تکنیکی معلومات شامل تھیں.
2011 میں بھارت کی چھ آبدوزیں جو فرانس تیار کر رہا تھا کا بائیس ہزار صفحات پر مشتمل ڈیٹا چوری ہوا تھا. جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کس نے چوری کروایا تھا. شک البتہ ساڈے تے ای سی 😂
میں دینے کو درجنوں مزید مثالیں دے سکتا ہوں جہاں کرنے والوں نے کاروائی کی مگر متاثر ہونے والے کاروائی کرنے والوں کی گرد کو بھی نا پا سکے. پرانی مثالوں میں سے پاکستان کا جوہری پروگرام سب سے بڑی مثال ہے. دنیا کی تمام بڑی سیکرٹ ایجنسیز مل کر زور لگا رہی تھیں کہ پاکستان کو ایٹم بم نہیں بنانے دینا. پاکستان نے پوری دنیا میں سے نہ صرف پرزے بلکہ حساس ٹیکنالوجی آئی ایس آئی کی مدد سے پاکستان منتقل کی. نا صرف منتقل کی بلکہ رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے 1992 سے پہلے ہی ایٹم بم بھی تیار کر لیا تھا. ہمارے جوہری پروگرام شروع کرنے کے پہلے دن سے لے کر ہمارے ایٹمی دھماکہ کرنے کے دن تک. دنیا کی تمام بڑی ایجنسیوں نے زور مارا تھا کہ پاکستان کو اس کام سے روک سکیں مگر ہم نے کر کے دکھا دیا تھا. اُس طرف دنیا کی ساری بڑی ایجنسیاں تھیں اس طرف آئی ایس آئی یا ملٹری انٹیلی جنس تھی. نتیجے سے آپ خود واقف ہیں. آئی ایس آئی کی کارکردگی کی تازہ ترین مثال پاکستان کی کامیاب سرجیکل سٹرائیک ہے. جو عین اس وقت کی گئی تھی جب بھارتی آرمی چیف اور بھارتی فوج کی دیگر اعلی ترین قیادت وہاں موجود تھی جہاں ہم نے بمباری کر کے انہیں سرپرائز دیا تھا. یار کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں ہے آئی ایس آئی کامیابیوں کی ایک پوری تاریخ کا نام ہے. اسے دشمن دوستوں سے بہتر جانتے ہیں. اسرائیلی اخبار نے اسے اکتوبر 2010 میں امریکہ کےلیے ایک پریشان کن طاقت قرار دیا تھا. برطانیہ کے گارڈین اخبار نے اسے ایک بدنام زمانہ خوفناک قوت کے نام سے یاد کیا تھا. فارن پالیسی میگزین اسے دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں سے ایک قرار دیتی ہے. دشمن ہمیشہ اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے دکھائی دیے مگر یہاں کیا صورت حال ہے؟ دو ٹکے کے چور سیاست دان جو نسل در نسل سے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں ان کا جب دل کرتا ہے اٹھ کے اس پہ الزام لگا دیتے ہیں. عام حالات میں کوئی مصطفی نواز کھوکھر اور مصدق ملک کی شلوار سے ناڑا نکال کے لے جائے تو اسے پتہ نہیں چلے گا کہ کون نکال کے لے گیا. پھرتیاں دیکھو تو پارلیمنٹ سے کیمرے نکالتے پھر رہے ہے. آنکھ کے اندھے نام نین سکھ.
میں دو سو فیصد شیور ہوں کہ اتنی تھکی ہوئی جاسوسی آئی ایس آئی نہیں کر سکتی. اس سے زیادہ اچھی اور محفوظ بَگ انسٹالیشن تو میں خود کر سکتا ہوں 😛. اور اِنہیں لگتا ہے کہ یہ تاریں اُنہوں نے سب کے سامنے لٹکائی ہوں گی جو چاہتے تو بیلٹ پیپر پہ لگانے والی مہر کو سپائی کیمرے میں تبدیل کر دیتے اور انہیں احساس تک نا ہو پاتا کہ ووٹ پہ لگنے والی مہر ہی دراصل ان کی جاسوسی کر رہی ہے. ویسے اگر آئی ایس آئی نے ہی کیمرے لگانے تھے تو بوتھ کے اوپر لگے بلب یا ٹیوب میں لگاتے یا وہاں اوپن وائرنگ کر کے دنیا کو بتاتے کہ دیکھو ہم نے چوری چوری کیمرے لگائے ہیں؟ چِپ کیمرا اور مائیکروویو کیمرا کے اس دور میں آئی ایس آئی سے یہ توقع کرنا ہی بیوقوفی ہے کہ سستے مکینکوں کی طرح وہاں تاروں کا جال پھیلانے والے آئی ایس آئی کے لوگ تھے. یہ سب پی ڈی ایم کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ ہے جس کی اتنی بھی اہمیت نہیں کہ اس پہ دو منٹ کےلیے ہنس لیا جائے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں