‎#PTI کی پنجاب حکومت نے صرف 2 سال میں آپ کیلیے کیا کیا کیا؟

🔸حکومت نےاپنے وعدے کےمطابق میانوالی، لیہ، اٹک، بہاولنگر اور راجن پور کے مدراینڈچائلڈ ہسپتالوں کے علاوہ نشتر2 ہسپتال ملتان، چلڈرن ہسپتال بہاولپور
‏ڈی جی خان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور برن سینٹر بہاولپور جیسے ہسپتالوں پر کام شروع کیا جن پر پہلےکبھی اس طرح توجہ نہیں دی گئی تھی
🔸 پنجاب حکومت نے یونیورسٹی آف میانوالی، راولپنڈی ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف چکوال، کوہسار یونیورسٹی مری، بابا گرونانک
‏یونیورسٹی ننکانہ صاحب، یونیورسٹی آف لیہ اور تھل یونیورسٹی بھکر پر کام شروع کیا
🔸26000 ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی بھرتیاں کی گئیں جن میں 14000 ڈاکٹرز اور 5000 نرسز شامل ہیں
🔸حکومت پنجاب کے ان 2 سالوں میں پہلی بار 15 یونیورسٹیوں، 250 کالجوں اور 8 تعلیمی
‏بورڈز کے سربراہان کی میرٹ پر آزاد سلیکشن بورڈز کے ذریعے تقرریاں کی گئیں
🔸3 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز جن میں پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی لاھور، میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈی جی خان اور پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول کا آغاز کیا گیا
‏🔸50 کالجوں میں بی ایس کی کلاسوں کا آغاز کیا گیا
🔸1200 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا
🔸سکولوں میں شام کی شفٹ شروع کی گئی
🔸نئی ایجوکیشن پالیسی لائی گئی
🔸پہلی بار 40000 اساتذہ نے بغیر کسی رشوت یا سفارش کے، گھر بیٹھے ٹرانسفر جیسی سہولت کا فائدہ اٹھایا
‏🔸تمام اداروں میں آن لائن ہیومن ریسورس سسٹم لانے پر کام شروع ہوا
🔸2800 سے زیادہ کلاس رومز بنانے پر کام شروع ہوا
🔸تقریباً 10000 سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا گیا
🔸72 لاکھ خاندانوں کیلیے ہیلتھ انشورنس کارڈز کا اجراء کیا گیا جن میں سے 50 لاکھ
‏سے زائد کارڈز تقسیم ہو چکے ہیں
🔸40 تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی تجدیدکاری کا عمل جاری ہے
🔸194 بنیادی مراکز صحت کو 24 گھنٹے فنکشنل کر دیا گیا ہے
🔸16 ارب کے میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے
🔸میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ پاس ہو چکا ہے
‏🔸پانی چوری روکنے سے 10 سے 15 سالوں میں پہلی بار کئی علاقوں میں نہروں کی ٹیل تک پورا پانی پہنچا
🔸رحیم یار خان انڈسٹریل اسٹیٹ، بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ، وہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ، قائداعظم بزنس پارک، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ گجرانوالہ، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ وزیرآباد،‏ایم 3 انڈسٹریل سٹی فیصل آباد، ویلیو ایڈیشن سٹی فیصل آباد اور علامہ اقبال سٹی فیصل آباد جیسے اکنامک زونز کو منظور کیا گیا
🔸غیرملکی سرمایہ کاروں سے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور قائداعظم بزنس پارک کیلیے اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جا چکے ہیں
‏🔸ہنرمند پنجاب سکیم کے تحت ‎#TEVT سیکٹر کیلیے 1.5 ارب روپے دیے گئے
🔸کسانوں کو منڈیوں اور ماڈل بازاروں میں کسان پلیٹ فارم کی مفت فراہمی کی گئی
🔸اینٹی کرپشن کے ادارے نے 132 ارب روپے سے زائد کی تاریخی ریکوریاں کیں
🔸قبضہ مافیا سے 10 لاکھ کینال سے زائد
‏رقبہ واگزار کروایا گیا
🔸کرپشن کی 10000 سے زائد ریکارڈ انکوائریاں کی گئیں جن میں 2300 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں
🔸کاروبار میں آسانی کیلیے E-Governance جیسے منصوبے شروع کیے گئے
‏🔸ملکی تاریخ کا سب سے بہترین بلدیاتی سسٹم منظور کروایا گیا
🔸لیگل ریفارمز کیلیے پنجاب اسمبلی سے 30سے زائد ریکارڈ بل پاس کروائے گئے اور تقریباً اتنے ہی قوانین منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں
🔸گنے اور گندم کے کاشتکاروں کو تاریخ میں پہلی بار پوری قیمت ملی
‏🔸کسانوں کو ان کے 26 ارب سے زیادہ کے واجبات شوگر ملوں سے ریکور کروا کے دیے گئے
🔸وزیراعظم ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت مختلف سکیموں میں ان 5 سالوں میں تقریباً 65 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کا پروگرام
🔸کھادوں پر تاریخی سبسڈی دی گئی
‏🔸پولیس ریفارمز کے تحت پولیس سے متعلقہ %80 کاموں کیلیے 36 اضلاع میں خدمت مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا
🔸8787 پر آئی جی شکایت سیل کا قیام عمل میں لایا گیا
🔸پولیس میں 10000 نئے پروفیشنلز کی بھرتی کی منظوری کی گئی
🔸سمارٹ پولیس اسٹیشنز عمل میں لائےگئے
‎‏🔸میرٹ پر پروفیشنل پولیس افسران کی تقرریاں کی گئیں
🔸پولیس میں سخت ادارہ جاتی احتساب کا آغاز کیا گیا
🔸61 میں سے ایسی 24 تحصیلوں میں سپورٹس کملیکس شروع کیے گئے جہاں کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں
🔸8 سال بعد پنجاب گیمز کا انعقاد کیا گیا
‏🔸کبڈی ورلڈ کپ کی میزبانی کی گئی
🔸نشتر سپورٹس کمپلیکس میں سپورٹس سکول بنانے کی منظوری کی گئی
🔸1400 دیہاتوں میں “گرین گراونڈز” بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا
🔸ثقافتی ورثہ کے تحفظ کیلیے والڈ سٹی اتھارٹی کا دائرہ کار پورے صوبے تک بڑھا دیا گیا
🔸پنجاب بھر میں 10 نئے سیاحتی مقامات کی ڈیویلپمنٹ پر کام تیزی سےجاری ہے
🔸پہلی بار صوبے میں 50 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا
🔸نئے نیشنل پارکس منظور کیے گئے
🔸اربن فارسٹ متعارف کروائے گئے
🔸وائلڈ لائف کے بہتر تحفظ کیلیے قوانین میں ترامیم کی گئ
‎‏🔸لاھور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں کے اگلےم سالہ ماسٹر پلان پر کام شروع کیاگیا
🔸پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت لاھور اور راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹس کے ساتھ دیگر 13 بڑی سڑکوں کے منصوبوں پر مختلف مراحل میں کام جاری
‎‏🔸تقریباً 1500 کلومیٹر چھوٹی دیہاتی سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے
🔸جنوبی پنجاب صوبے کیلیے سول سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا
🔸بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل IG پولیس کی تقرری عمل میں لائی گئی
🔸جنوبی پنجاب کے فنڈز کی رِنگ
‏فینسنگ کی گئی تاکہ جنوبی پنجاب کے فنڈز سابقہ ادوار کی طرح جنوبی پنجاب کے علاوہ کہیں اور نہ لگائے جا سکیں
🔸کورونا جیسی وبا کا باتوں کی بجائے بہتر ایڈمنسٹریشن سے مقابلہ کیا گیا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں