محبوب کا ٹھکرانا بھی اپنانا ھے

لیلیٰ نے اپنا لنگر کھول رکھا تھا ، منگتے قطار در قطار آرہے تھے ، سوالی اپنی جھولی پھیلاتے لیلیٰ نوازتی جاتی ، عطا کرتی جاتی ، دیتی جاتی اور رخصت کرتی جاتی .

اک قطار میں مجنوں بھی اپنا پیالہ لیے کسی سوالی کے پیچھے چُھپ کے کھڑا ہوگیا ، جب اس کی باری آئی ، لیلیٰ نے پہچان لیا اور ہاتھ سے پیالہ جھٹک کر دیوار پہ دے مارا ، سرخرو گدا اور منگتے لیلیٰ کا مجنوں سے یہ رویہ دیکھ کر تلملا اٹھے ، مجنوں پہ جملے کسنے لگے ، تیری محبوبہ نے تجھے آج سرِ عام رسوا کردیا ۔

مجنوں نے ذرا سب کو قریب کر کے پوچھا ذرا اپنا کشکول دِکھاؤ ؟ سب اپنا اپنا بادۂ گدائی میرے سامنے کرو ، بتاؤ کس کس کا پیالہ خالی ہے ؟ سب نےاپنا اپنا کاسہ سامنے رکھا ، بولے ہمارے تو بھرے ہوئے ہیں ۔

مجنوں نے فوراًً کہا :

ارے عقل کے اندھو !
اگر میرا بھی بھرا ہوتا ، تو بتاؤ تم میں اور مجھ میں فرق کیا رہ جاتا ؟ یہ بھی ادائے محبوب ہے ، کہ اس نے فرق روا رکھنے کے لئے تمہیں عطا کیا اور مجھے بھگا دیا ، وہ مجھے بغیر پیالے کے دیکھنا چاہتی ہے ۔

اے خواہشات میں جکڑے انسان !

یاد رکھ ، کبھی قدرت تیرے ہاتھ میں کاسۂ گدائی دیکھنا نہیں چاہتی ، تجھے “سوالی کٹورے” کے سِوا دیکھنا چاہتی ھے ، لہذا جب کبھی دیکھ مجھے ٹھکرایا جارہا ہے ، مجھے بھگایا جارہا ہے ، میرا “کٹورا” توڑا جارہا ہے ، تو فوراً سمجھ جا کہ قدرت تجھے بازارِ کائنات میں لوگوں کا سوالی نہیں ، بلکہ اپنا ولی بنانا چاہتی ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں