موٹیویشنل اسپیکرز زدگان کے نام

سلیم ایک پڑھا لکھا خوبرو جوان تھا.ایک آفس میں اچھی تنخواہ پر جاب کرتا تھا جس سے اس کی گزر بسر اچھی ہو جاتی….. پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اسے موٹیویشنل اسپیکرز کی لت لگ گئی…

پھر کیا تھا….. ہر وقت یہی گردان زبان پر ازبر ہوتی.. ہاں تم کر سکتے ہو…. دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں….. ہر موری میں انگل دو….

ٹونی رابنز اور ڈیل کارنیگی کو زور شور سے پڑھا جانے لگا…… کامیابی کے دس اصول, سو کامیاب انسان.,ہاں تم کر سکتے ہو نامی کتابیں رٹ لی گئیں.. .. اور ستم بالائے ستم یہ کہ وہ بر صغیر کے موٹیویشنل اسپیکرز کے ہتھے چڑھ گیا…. جو ہر تیسرے نتھو خیرے میں مارک برگ اور بل گیٹس کی جملہ علامتیں پاکر اگلی ربع صدی کا مکیش امبانی ہونے کی نوید سناتے ہیں… ایسے اسپیکرز کا بنیادی سبق نوکری سے نفرت دلاکر اپنا کاروبار شروع کرنے کی منجن بیچنا ہوتا ہے… سو اس بیچارے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا….. اپنی نوکری سے نفرت ہونے لگی کاروبارکا جنون چڑھا….. ایک دن کچھ زیادہ ہی جوش میں آیا تو سنی دیول کی طرح استعفی باس کی میز پر مار کر انٹر پرینیور بننے نکل کھڑا ہوا….

اب سوچ بچار شروع ہوئی کہ کاروبار کیا کروں… اب اتنے پیسے تو تھے نہیں کہ کوئی کارخانہ بنا کر ایلن مسک کے نقش قدم پر چل سکے……. اچانک ایک موٹیوشنل اسپیکر کی سنائی ہوئی kFCکے بانی کی کہانی یادآئی…..
سو بھائی نے چالیس ممالک میں اپنی فوڈ چین پھیلانے کا سپنا سجا کر ایک ریڑھی لی…. وہاں چپس کا ٹھیہ لگایا اور کاروبار شروع کردیا…

اب ظاہر ہے یہ کوئی آفس کے پرسکون کمرے میں آرام دہ کمرے میں بیٹھنے والا کام تو تھا نہیں… سو موصوف کے چھکے چوٹ گئے جب ایک دو دفعہ کمیٹی والوں نے چالان کے نام ایک خطیر رقم اینٹھی تو باقی کے چودہ طبق بھی روشن ہو گئے جن کی روشنی میں موٹیویشنل اسپیکر صاحب کے بنائے خیالی محل کے کنکر گرتے نظر آنے لگے…

دو ہفتے بعد…

سلیم بھیا کاروبار کی تپش بردشت نہ کر سکے….. ریڑھی مبلغ چھ سو روپے میں کباڑی کے ہاتھ بیچی…… اسپیکرز کی جذباتی باتوں کو شمشان گھاٹ میں جلایا……. راکھ بطور عبرت پوٹلی میں باندھی……. اب راکھ بمع ڈگری نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں….. اور تلاش نوکری میں ان پر یہ راز بھی منکشف ہو گیا کہ…… یونیورسٹی والے ڈگری رول کر کے کیوں دیتے ہیں.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں