نماز کے احکامات 🕰

الْحَدِيثُ السٍابِعُ والستُّونَ
عَنْ أنس بن سيرين قال : «اسْتَقْبَلْنَا أَنَساً حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَــــــــــــارٍ، وَوَجْهُهُ مِنِ ذَا الْجَانِبِ ــ يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ ــ فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ؟ فَقَالَ : لَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَفْعَلُهُ مَا فَعَلْتُهُ».

[رواه البخاري، أبواب تقصير الصلاة، باب صلاة التطوع على الحمار، برقم 1100، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت، برقم 702.]

معنی الحدیث:
انس بن سیرین سےروایت ہے کہ ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا جبکہ وہ شام سے تشریف لائے ہم انہیں “عین التمر”مقام پر جا کر ملے میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کا رخ قبلہ کی بائیں جانب تھا میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ قبلہ کے علاوہ کسی دوسری جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں قطعاً ایسا نہ کرتا۔

مفرداتُ الحدیث:

اَنَسُ بْنُ سِيْرِيْنَ : یہ مشہورومعروف تا بعی حضرت محمد بن سیرین کے بھائی تھے ۔

عَيْنُ التَّمْرِ : یہ مقام مغربی عراق کی حدود پر واقع ہے یہاں کھجور کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔

قَدِمَ مِنَ الشَّامِ : شام سے آئے۔

فَلَقِيْنَاهُ : تو ہم ان سے ملے ۔

ذَا الْجَانِبِ : ایک طرف ۔

يَسَارِ الْقِبْلَةِ : قبلے کی بائیں جانب ۔

مفہوم الحدیث:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سر زمین شام سے تشریف لائے تو لوگوں نے ان کا عراق کی مغربی حدود پر واقع “عین التمر” کے مقام پر استقبال کیا آپ اپنے گدھے پر سوار نماز ادا کر رہے تھے اور اتفاق ایسا تھا کہ رخ قبلے کی طرف نہیں تھا بلکہ قبلے کے قدرے بائیں جانب رخ کئے ہوئے تھے آپ سے یہ سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی یقیناً ایسا نہ کرتا۔

احکام الحدیث:
1:سواری پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قبلہ وہی متصور ہو گا جس طرف سواری کا رخ ہو۔
2:نفلی نماز کا سواری پر ادا کرنا جائز ہے خواہ سواری گدھے کی ہو۔
3:مسلمان ا بھائی کا استقبال کرنا مشروع ہے۔
4:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن پر عمل کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بہت پسند کیا کرتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں