کچھ وقت کے لئے جمہوری نظام کے ساتھ چلنا ہوگا یہ مجبوری ہے

ایک طرف جمہوریت
اور یہ موجودہ نظام اب نہیں چل سکتا۔دوسری طرف عالمی سطح پر اتنا پھنس چکے ہیں کہ, اس نظام سے باہر بھی نہیں نکل سکتے.
پاکستان تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے کہ موجودہ جمہوریت کو بھی ہٹا نہیں سکتے اور

“دیگر”

دوسرا نظام بھی نہیں لا سکتے”

کچھ وقت کے لیے ایسے ہی فارمولہ کے تحت اس نظام کو موجود رہنا ہو گا
لیکن اس نظام کو چلانے والے اب ٹھیک مگر سچے پاکستانی سامنے آئیں گے،
شرط یہ ہے کہ جب تک خود کو مضبوط نہ کر لیا جائے،
سب سے پہلے ہمیں معاشی طور پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا
قرضوں کے دلدل سے باہر نکلنا ہو گا۔
معیشت اپنے پیروں پر کھڑی کرنا ہو گا
دفاعی طور پر مضبوط کرنا ہو گا،
ابھی تک دفاع ہی مضبوط کرنے کا عمل چل رہا ہے اور ساتھ ساتھ اندرونی معاملات بھی ٹھیک کرنے کے انتہائی پیچیدہ معاملات چل رہے ہیں۔

یہ تمام ٹارگٹ اگلے 2, 3 سال تک پورے کرنا ہوں گے۔
2023 کے بعد وقت انتہائی تیزی سے کروٹ بدلے گا۔

اگر آج بغیر تیاری کے جذبات میں قدم اٹھاتے ہیں سسٹم اپنی مرضی کا لاتے ہیں موجودہ نظام جمہوریت کو بائے بائے کرتے ہیں۔

تو یقینا پوری دنیا کی پابندیاں ہم پر مسلط کر دی جائیں گی۔

دوسری طرف معاشی طور پر ہمارے حالات کس لیول پر ہیں وہ پوری قوم کو پتا ہے.
اور سو فیصد طے ہیں عالمی طاقتیں براہ راست اتحاد کی شکل میں حملہ آور بھی ہو سکتی ہیں۔
لیکن یہی عالمی دشمن خود دست و گریباں ہونے والے ہیں۔ان کے اندرونی حالات انتہائی کشیدہ ہیں.
ہمیشہ حکمت عملی اور وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
غلط وقت اور بغیر حکمت عملی کے معاملات الٹ ہو سکتے ہیں۔وہی بکھری ہوئی طاقتیں دوبارہ ایک چھتری تلے جمع بھی ہو سکتی ہیں۔
انتظار کریں ان کی تباہی کا اور وہ بہت قریب ہے۔
یقینا ابھی دفاعی طور پر خود کو مضبوط کرتے ہوئے وقت کا انتظار کرنا چاہیے,
بصورت دیگر اگر ہم ان حالات میں وقت سے پہلے جذباتی اقدام کرتے ہیں تو پریشانیاں کھڑی ہو جائیں گی,
ایک طرف کرونا کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
دوسری طرف افغانستان میں شکست بالکل آخری مراحل پر ہے.
کئی طرح بھارت کے حالات بھی انتہائی خراب ہیں
خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں !
عالمی مالیاتی نظام۔اس وقت آخری ہچکولے کھا رہا ہے اپنے اختتام کو ہے۔
اس موجودہ معاشی نظام نے دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔غریب ممالک کی چیخیں نکل چکی ہیں۔
حتی کہ اکثر یورپی ممالک بھی اس ظالمانہ مالیاتی نظام سے سخت ترین پریشان ہیں۔
بلکہ مصنوعی مالیاتی سسٹم اس وقت خود اپنے بنانے والوں کو بھی تباہ کرنے کو تیار ہے۔

اسرائیل امریکہ کا مالیاتی نظام سسٹم انتہائی تباہی کے راستے پر ہے۔
اس عالمی مالیاتی نظام اور ڈالر کی اجارہ داری تقریبا ختم ہونے کو ہے,
بلکہ تھوڑے سے وقت کے بعد پاکستان,چائنا اور ترکی سمیت۔دیگر کچھ ممالک مل کر موجودہ مالیاتی نظام کو خیر باد کہہ کر اپنا مالیاتی نظام دنیا کو دیں گے جو پوری دنیا کے ممالک کے لئے بہترین ہو گا.
اب کیونکہ موجودہ نظام نے جانا ہے,
ہر صورت میں جانا ہے.
عالمی معاشی مالیاتی نظام کے ماہرین کے مطابق یہ نظام تقریبا ختم ہو چکا ہے۔
اب اسے مصنوعی آکسیجن دی جا رہی ہے۔
ڈالر اپنی اوقات کھو دے گا
ڈالر ردی پیپر کے برابر ہو جائے گا۔
یقینا دنیا اس وقت انتہائی
خطرناک موڑ پر موجود ہے۔
ایک نام نہاد سپر پاور کا اختتام ہونے کو ہے
دوسری طاقت نے دنیا کا نظام سنبھالنا ہے
اور انتہائی تیزی سے دفاعی طور پر بھی نیو بلاک وجود میں آ چکے ہیں۔
یقینا مالیاتی معاشی پلان بھی ہوں گے۔
انتہائی تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔
کبھی جن چیزوں کے بارے میں ناممکن سمجھا جاتا تھا آج وہ ممکن ہو چکی ہیں.
نوٹ منزل ہماری اسلامی صدارتی نظام ہے۔
اور یہی حل ہے
لیکن ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے راستے کے سارے کانٹے دور کرنا ہوں گے۔
جس کے لیے کوشش کی جا رہی ہیں۔
مایوس کرنے کی بھی پوری کوشش کی جارہی ہے۔
لیکن ہمیں آگے ہی جانا ہے.

پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں