یمن میں گورنر بن کر داخل ہوا

لوگ استقبال کو شہر سے باہر آئے تھے لوگوں سے بس اتنا سا خطاب فرمایا
“لوگو یہ میری سواری ہے،اس کےاوپر میرا مصحف اور ایک عدد تلوار ہے اور یہ میرے کل اثاثہ جات ہیں مدت گورنری ختم ہونے کے بعد اگر واپس جاتے ہوئے اس کے علاوہ میرے ساتھ کچھ پایا گیا تو مجھے چور سمجھ لینا”
پورے بیس سال بعد لوگ بھیگی آنکھوں کے ساتھ اسے رخصت کرنے شہر سے باہر تک آئے تھے کل اثاثہ جات وہی ایک اونٹ،تلوار اور مصحف تھا.
یہ عروہ بن محمد تھے اور عمر بن عبدالعزیز کا
سنہرا دور تھا.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں