جنرل باجوہ کے کشمیر پر بیانات پر تنقید

ہمارے ذرائع کے مطابق

جنرل باجوہ کے کشمیر پر بیانات پر تنقید کرنے سے آپ کو کچھ نہیں ملنے والا ہے۔
الٹا ان بیانات کو بعض دانشور بغض کے حساب سے توڑ مروڑ کا اپنے دل کی تسلی کر رہے ہیں ۔
نئی نسل کا ذہن خراب مت کریں

پراکسی جنگ کا پہلا اصول ظاہری اور باطنی کرداروں کو سمجھنا ہوتا ہے
جو کہ ہمارے دانشوروں میں بہت کم ہے۔
بغض نکال کر یقین مانیں آپ اپنا ٹائم ضائع کر رہے ہیں۔۔
کل بھی پاک فوج نے دانشوروں سے پوچھ کر پراکسی جنگ شروع نہیں کی تھی
نہ آئندہ کرنے کا ارادہ ہے۔
پاک فوج یہ فیصلے ہمیشہ انٹیلجنس انفرمیشن اور ملکی سالمیت کے معاملات پر کرتی ہے۔
تمہارا منہ بھی کبھی نہ کبھی اس معاملے پر بند ہو جائے گا۔
ان شاءاللہ

9/11 کے فوری بعد جب افغانستان پر جنگ مسلط ہونے جارہی تھی،
کمزور پاکستان، بظاہر کمزور فیصلے کرنے پر مجبور تھا..
لوگ کہتے تھے کے پاکستان نے طالبان کو تنہا چھوڑ دیا، مجاہدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا،
مسلمانوں کی حکومت تباہ کروا دی، اپنے اڈے اور راستے امریکہ کو دے دیئے.
وغیرہ وغیرہ..

لیکن 20 سال گزرنے کے بعد، ان 20 سالوں میں کیا ہوا، کیسے ہوا یہ امریکیوں سے خود پوچھ لیں،
ٹرمپ کے الفاظ ہی یاد کرلیں جس میں وہ کہتا ہے.
کہ پاکستان نے ہم سے جھوٹ بولا، پیسے بھی لیئے اور ہمارے دشمنوں کا ساتھ بھی دیا۔
لیکن آج اسی پاکستان کے بغیر امریکیوں کا اس خطہ سے نکلنا ممکن ہی نہیں،

اسی پاکستان کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں…..
اتنی قریبی تاریخ کے اسباق کو بھلا کر موجودہ مشکل وقت میں دیئے گئے بینات، تدابیر اور حکمتوں کو اگر ہم انہی پر چھوڑیں جن کے زمہ وطن عزیز کا دفاع ہے
تو زیادہ بہتر ہوگا…
انشاءاللہ کشمیر آزاد بھی ہوگا اور پاکستان قائم بھی رہے گا…

اللہ کی نعمتوں پر شکر کریں

آج پاکستان اور پاکستان کے بازو
پہلے سے دونوں زیادہ طاقتور ہیں
اور فتح آپ کے دروازہ پر دستک دے رہی ہے.
بس صبر کریں،
صبر کی تلقین کریں اور رب سے رابطہ بحال رکھیں،
فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔۔۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں