پی ڈی ایم ختم ۔ آئینی ترمیم خاص طور پر اٹھارویں ترمیم میں بنیادی تبدیلیوں کی کوشش ۔ ۔ ۔ الیکشن کمیشن ، پی ٹی آئ نیا کٹا ۔ کشمیر کی آزاد حیثیت ۔

یہ بات منظر عام پر آ چکی ہے کہ نواز شریف ، مرہم کے ہاتھ سے معاملات نکل گئے ہیں ۔ ن کا بنیادی مقصد ملک میں آئینی بحران پیدا کرنا ، نئے الیکشن کی بنیاد رکھنا تھا ۔ پی پی سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا ، مستعفی ہوجائیں ، پر تشدد لانگ مارچ کیطرف آ جائیں ۔ آصف زرداری انکار کر چکا تھا ، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ ظاہری سی بات ہے ، سندھ میں انکی حکومت ، صوبائی و وفاقی سطح پر انکے پاس سیٹس ، سینیٹ میں دوسری بڑی جماعت ، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن ، مرہم ، نواز شریف کے پلے کچھ بھی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ استفعوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا ، کوئی آئینی بحران پیدا نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ اب نا استعفیٰ نا لانگ مارچ ۔
افواج و پاکستان مخالف بیانیہ پٹ گیا ، برے طریقے سے ، یاد رکھے ہر سیاستداں ، دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے ، شریف خاندان ، فضل الرحمٰن یا کسی بھی اور سیاست دان کی نہیں ۔ ۔ ۔
آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر کے پی ڈی ایم کو فیصلہ سنا دیا ، پی پی مستعفی نہیں ہوگی ۔ لانگ مارچ ، دھرنے کیلئے نواز شریف کو پاکستان آنا ہو گا ۔ فضل الرحمٰن اسٹیج چھوڑ کر جا چکا ہے ۔

پی ڈی ایم کا کھیل ختم ۔ ۔ ۔

دوسری جانب مرہم نواز نیب کے سوالوں کا جواب نہیں دے پا رہی ، نہ دے سکے گی ۔ ۔ ۔ حسن نواز ، حسین نواز کو نیب نے سوالنامہ ارسال کر دیا ہے ، جواب انکے پاس بھی نہیں ، چودھری شوگر ملز کیس میں یہ خاندان بری طرح پھنس چکا ہے ۔ ۔ ۔
فروغ نسیم کیمطابق ، آئینی ترامیم کا پیکج تیار ہو رہا ہے ، جو منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ، نیب قوانین میں بہتری ، وفاق کا صوبوں پر کچھ کنٹرول ، عوامی فلاح و بہبود ، مہنگائی ، اٹھارویں ترمیم میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی جاۓ گی ، اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے پورے آئین کی شکل بگڑ چکی ہے ۔ تعلیم ، صحت ، معاشی ، زرعی پالیسیز کو ایڈریس کرنے کی کوشش بھی کی جاۓ گی ۔ ۔ ۔
محب وطن ، رياستی اداروں کے سربراہان پر بے بنیاد الزام تراشی کا رزلٹ بھی سامنے آئے گا ۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد چیئر مین نیب ، الیکشن کمشنر و چار صوبائی اراکین کا تقرر مرکز میں لیڈر آف اپوزیشن ، لیڈر آف ہاؤس ( وزیر اعظم ) کرتے ہیں ، صوبوں میں بالکل اسی طرح وزیر آعلیٰ اور لیڈر آف اپوزیشن ملکر کرتے ہیں ، کوئی میرٹ نہیں ، دھاندلی کرنے کیلئے ، یہ طریقہ کار ن ، پی پی نے طے کیا تھا ، تاکہ باریاں چلتی رہیں ، کیئر ٹیکر سیٹ اپ کا نگران وزیر اعظم و صوبائی نگران وزیر آعلیٰ بھی اوپر درج طریقہ کار سے ہی آتا ہے ، میرٹ نا ہونے کی وجہ سے سیاسی وابستگیاں بہت زیادہ چلتی ہیں ، موجودہ ضمنی و سینیٹ الیکشنز میں الیکشن کمیشن کا کردار بہت ہی زیادہ منفی رها ،سب جانتے ہیں اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ، اسوقت پی ٹی آئ ، الیکشن کمیشن کے درمیان ضد بازی کا ماحول قائم ہو چکا ہے ، رپورٹس ہیں کہ الیکشن کمیشن بہت بڑا آئینی بحران پیدا کرنے جا رہا ہے ، جس سے موجودہ سیٹ اپ گر جاۓ گا ، وفاقی وزراء نے تبھی الیکشن کمیشن کیخلاف پریس کانفرنس کی ہے ، چیف الیکشن کمشنر ، چاروں اراکین سے اسی لئے استفعیٰ مانگا جا رہا ہے ، مگر انکو ہٹانے کا وہی طریقہ ہے جو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے ( سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت ) ۔ یہ معاملہ شدت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے ۔

آخر میں بتاتا چلوں ، 23 مارچ کو پانی کے مسلے طے کرنے کیلئے ، پاکستانی وفد بھارت جا رہا ہے ، بیک ڈور ہائی سطح پر پاک ، بھارت برف پگھلنی شروع ہو چکی ہے ، معاملات چین طے کروا رھا ہے ، بھارت کو گردن سے پکڑ کر ۔ پورا مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر ایک کر کے ، کشمیریوں کو اختیار دیا جائے ، کس کے ساتھ جانا ہے ، پاکستان ، بھارت یا آزاد حیثیت ؟
آزاد حیثیت میں چین کشمیر کو مکمل سپورٹ کرنے جا رہا ہے ، بھارت کو مجبور کر کے چین مذاکراتی میز تک لا رہا ہے ، عمران ، مودی ملاقات بھی متوقع ۔ ۔ ۔
ٹرائیکا کا پلان تھا ، مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر کو آزاد کر کے ، یہاں امریکی ، اسرائیلی اجارہ داری قائم کی جاۓ ، فوجی بیسز قائم کر کے پاکستان ، چین کو تنگ کیا جائے ، سی پیک ، ون بیلٹ ، ون روڈ پراجیکٹ ، گوادر کو برباد کیا جائے ، بھارت کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وه چین کی بات مانے ، کشمیر ، آزاد حیثیت میں بھی چین ، پاکستان کیساتھ ہی رہے گا ۔ ۔ ۔ امریکہ ، اسرائیل یہ ہر گز نہیں چاہتے ، انکی کوشش ہو گی خطہ جنگ سے لرز اٹھے ، مگر چین ، پاکستان کی اجارہ داری قائم نا ہو پاۓ ۔ ۔ ۔ آنیوالا وقت بتاۓ گا ، اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ ۔ ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں