صل للہ علیہ و الیہ وسلم

یہ حکایت ہے کوئی ، اور نہ کوئی افسانہ
سنگ پاروں پہ ترا ابر دعا برسانا

تجھ کو تقدیر بدلنے کی بھی آسانی تھی
وہی کچھ ہو کہ رہا ، تو نے جو دل میں ٹھانا

تو نے اس قوم کو بھی حکمت و حشمت بخشی
جس کا دل سود تھا، اور ذہن فقط ویرانہ

تیری تعلیم نے اس کو بھی سکھا دی تہذیب
با ادب ہے تیری محفل میں ، ترا دیوانہ

معجزہ اس سے بڑا اور بھلا کیا ہو گا
ظلمت کفر میں تامانیء قرآں لانا

نوع انسان کی تاریخ کا روشن آغاز
ارض مکہ سے ترا ، سوئے مدینہ جانا

نگہت و رنگ مجھے تیرے ہی صحرا سے ملے
جن کی خاطر چمنستان جہاں کو چھانا

ترے معیار سخاوت کی نہیں کوئی نظیر
بوند اک مانگنا اور سات سمندر پانا

تیری امت کو ملی عظمت دائم کی نوید
یوں تو قوموں کا لگا رہتا ہے آنا جانا

تیری شان بشریت پہ ہے قربان ندیم
اس نے تیرے ہی توسط سے خدا پہچانا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں