والدین سے بد سلوکی کی سزا

دین محمد کو جب گھر سے بیٹے اور بہو کی طرف سے بہت زیادہ طعنے ملنے لگے تو وہ بیٹے سے بہت بیزار رہنے لگے انکی سوچ انکو 30″35 برس پیچھے لے گئ جب انکا بیٹا صائم 2سال کا تھا تو اسکی ماں دین محمد کی بیوی اللہ کو پیاری ھو گئ دین محمد نے بیٹے کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا جب تھوڑا بڑا ھوا تو بے جا ضد اور لاڈ پیار سے بگڑنے لگا دین محمد اپنی قلیل آمدنی سے اسکی ھر ضد پوری کرتے جب بیٹا پڑھ لکھ کر ایک پرائیویٹ ادارے میں اچھی ملازمت پر فائز ھو گیا تو دین محمد کو پوتوں پوتیوں کی یاد ستانے لگی اور اسکی شادی کی فکر ھونے لگی کیونکہ دین محمد بیٹے کا کھانا پکاتا اسکے کپڑے دھوتا اور استری کرتا اب وہ چاہتا تھاکہ کوئ اسکے گھر والی بھی آ جاۓ تو اسے بھی کچھ سکون ملے
آخرکار ایک اچھی جگہ بیٹے کا کارشتہ ھوا اور امبرین اسکی بہو بن کر آ گئ شروع شروع میں تو دین محمدکو کھانا ملا لیکن بہو بولی میں اتنا کام نہی کر سکتی بابا آپ اپنا کھانا خود بنا لیا کرو بابا نے بیٹے اور بہو کو دیکھا اور خاموشی سے سر جھکا لیا اسکی آنکھ سے آنسوکے چند قطرے گرے جو بیٹے اور بہو نے تو نہیں دیکھا لیکن خالق کائنات کی عدالت میں وہ آنسو کے قطرے پیش ھو گۓ
اگلے دن بیٹا بائک سے پھسلا اور معمولی زخمی ھوا مطلب اللہ کی وارننگ ملی دین محمد پاگلوں کی طرح بیٹے کی خدمت کرتا لیکن بیٹا جب باپ سے بات کرتا تو جھڑکیوں کی صورت میں بیٹا بیوی سے بات کرتا تو انتہائ شیریں لہجے میں لیکن باپ سے بات کرتے ھوۓ لحجہ تلخ ھو جاتا
دین محمد آنسو بہاتا رھا اسکے آنسو اللہ کے حضور گواہیاں دیتے رھے بیٹے کو چھوٹے چھوٹے حادثات کی صورت میں وارننگ بھی ملتی رھی لکن ناخلف بیٹے کو اللہ کی واننگ کی سمجھ نہ آئ
اب دین محمد کے گھر پوتی پوتی پوتے کی آمد قریب تھی اور دین محمد سارا دن خوش پھرتا کبھی ادھر کھبی ادُھر ایک دن دین محمد کو بہو کی جانب سے نیا حکم ملا بابا میری ماں اور بہن آ رھی ھیں جگہ کم ھے آپ کسی کسی دوست کے پاس کچھ دن گزار لیں یا پھر ساتھ والی مسجد کے حجرے میں قیام کریں
دین محمد نے بیٹے اور بہو کو دیکھا اور بولا ٹھیک ھے میں چلا جاتا ھوں میری وجہ سے تمھیں تکلیف ھو مجھے گوارا نہیں پر بیٹا اپنا خیال ضرور رکھنا اور ایک بار میں تجھے سینے سے لگانا چاھتا ھوں بڑے دن ھوۓ تجھے سینے سے نہیں لگایا یہ کہتے ھوۓ بیٹے کو سینے سے لگایا اور زاروزار رویا لیکن پتھر دل بیٹے کی آنکھ خشک ھی رھی .
5 سال بعد
ایک بابا مسجد سے نکتا اور ایک سکول کے گیٹ کے پاس کھڑا ھو جاتا وھاں سے چھٹی ٹائم ایک بچہ نکلتا بابا بڑی حسرت اور پیار سے بچے کو دیکھتا اور اپنی آنکھ کے آنسوٶں کو دامن سے صاف کرتا ھوا چل پڑتا یہ بابا دین محمد تھا جو اپنے پوتے کو دیکھنے کے لیۓ روز چھپتا چھپاتا آتا اور دیکھ کر چلا جاتا یہ معمول چلتا رھا
ایک دن بابا حجرے میں بیٹھا ھوا تھا کہ اسکا سابقہ پڑوسی آیا اور بولا بابا تیری بہو پاگل ھو چکی ھے تیرا بیٹا کینسر کی لاسٹ سٹیج پر ھے تجھے کوئ خبر نہیں ھے جا کر انکا حال تو دیکھ تیرے پوتے کو تو تیری بہو کے بھائ لے گے ھیں وہہی اسکا خیال رکھتے ھیں مگر بہو کو مینٹل ھسپتال میں داخل کروا دیا ھے
بابا جب اپنے گھر پہنچا تو دروازہ کھلا ھوا پایا اندر کمرے میں ایک گندی سی چارپائ پر ایک ھڈیوں کا ڈھانچا پڑا ھوا تھا جو کہ اسکا بیٹا صائم تھا یہ دیکھ کر بابا بلند آواز سے رونے لگا اور بیٹے کو سینے سے لگایا بیٹا اشاروں میں کچھ کہہ رھا تھا کان لگا کر سنا تو آواز آئ کہ بابا کیا میری غلطیاں میری خامیاں میرے گناہہوں کی بخشش ھو سکتی ھے کیا آپ مجھے معاف کر سکتے ھیں میں سو نہیں پاتا میری جان جسم سے نکلتی نہیں ھے سکون ختم ھو چکا ھے
بابا بولا میرے بچے میں نے تمھیں کبھی بددعا نہیں دی میں تجھ سے راضی ھوں اللہ بھی تم پر رحم کرے گا
یہ سن کر بیٹے کو کچھ سکون محسوس ھوا اور بولا بابا آپ مجھے کھانا بنا کر دیتے تھے کیا آج مجھے آخری بار کھانا اپنے ھاتوں سے بنا کر کھلا سکتے ھیں
دین محمد بازار گیا کھانے کیلۓ کچھ سامان لایا اور بیٹے کیلیۓ کھانا بنایا اور بیٹے کو کھلانے لگا دو لقمے ھی کھلاۓ کہ اچانک کھانسی کا دورہ پڑا اور سانس نکلنے لگی دین محمد کلمہ پڑھنے لگا پھر آخری ہچکی لی اسکے ساتھ ھی صائم کی روح پرواز کر گئ دین محمد نے بیٹے کی آنکھیں بند کی اور اپنے ناتواں کندھوں پر جوان بیٹے کی لاش اٹھانے کی تیاری کرنے لگا
یہ دنیا فانی ھے بھائیوں اور بہنوں خدارا اپنے ماں باپ کی قدر کرو کسی لڑکی سے بات کرتے ھوۓ لحجہ بہت شیریں ھوتا ھے لیکن ماں باپ سے بات کرتے ھو ۓ یہی لحجہ تلخ کیوں ھو جاتا ھے ماں باپ سے بد سلوکی اللہ کو گوارا نہیں صائم کو تو معافی کا موقع مل گیا لیکن اگر ھمیں یہ موقع بھی نہ ملا تو ٹھکانہ جہنم ھو گا
میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان جنت کو اٹھا کر ماں کے قدموں میں بچھا دیتا ھے لیکن آج کا غافل مسلمان اس فرمان کو بھول چکا ھے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں