امریکہ میں۔اور دیگر ممالک کے خفیہ ادارے افواج۔

ذرائع کے مطابق

محکمہ دفاع اور اس کے ماتحت کام کرنے والے ادارے دماغ کنٹرول سے متعلق تحقیق پر کئی عشروں سے کام کررہیں ہیں تاکہ جنگ میں بہتر انداز سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار ممکن ہوسکے۔اور دنیا پر حکمرانی کی جا سکے۔اور اس وقت کافی حد تک یے لوگ کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔پوری دنیا کی معاشیت دماغ کنٹرول کر چکے ہیں۔

امریکی خفیہ ادارے دماغی امور پر تحقیق کرنے والوں سے قریبی رابطوں میں رہتے ہیں تاکہ جنگ کے میدان میں دشمن کو نفسیاتی طور پر زیر کرنے کے بہتر طریقے وضع اور اختیار کرسکیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور حکومت کا ایک مرکز پر اس طور جمع ہونا چند ایک سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔

اس وقت امریکہ اسرائیل اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے دفاعی اداروں نے باقاعدہ طور پر بڑے بڑے ادارے بنا رکھے ہیں۔’’بہت کم لوگوں کو اندازہ ہے کہ دماغ کی کارکردگی سے متعلق تحقیق کو جنگ میں کس طور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی کے ذہن پر اثر انداز ہونے میں مدد دینے والی ٹیکنالوجی کا صحیح اور غلط دونوں طرح کا استعمال ممکن ہے۔ دماغ کی کارکردگی سے متعلق تحقیق سے ایک طرف ذہنی کارکردگی کی سطح بلند کی جاسکتی ہے اور دوسری طرف اس تحقیق کو غلط انداز سے استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔‘‘
ہر قسم کی تحقیق کو دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، تاہم تحقیق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علوم و فنون کے ماہرین اور سرکاری دفاعی اداروں کو متوازن تعلقات کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

’’دماغی امور کے عمل یعنی نیورو سائنس میں اور دیگر۔ذرائع استعمال کیے جارہے دفاعی طور پر بھی اور حکومتی مشینری چلانے کے لیے بھی مختلف۔۔ اخلاقی اصولوں اور پالیسی کے ماہرین کے علاوہ عوام بھی اس معاملے میں سرگرم عمل ہے۔ دفاعی مقاصد کے لیے نیورو سائنس کو استعمال کرنا

’’مائنڈ وارز‘‘ سے اقتباسات
’’حقیقت یہ ہے کہ تمام ہتھیار ہمارے دو کانوں کے درمیان ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ذہن کے علاوہ کیا ہے جو کسی بھی چیز کو تیار اور استعمال کرے؟ اگر مخالفین کو یقین دلادیا جائے کہ وہ شکست کھاسکتے ہیں تو سمجھ لیجیے نصف جنگ تو آپ نے جیت ہی لی۔تمام تمام عالمی طاقتیں حکومتیں اس مقصد کے حصول کے لیے پروپیگنڈا مشینری پر خطیر رقوم خرچ کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ دشمن کو ذہنی طور پر مغلوب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے تجربہ گاہوں میں نیورو سائنس کے ذریعہ مشترکہ کام جاری ہے تاکہ دشمن کو نفسیاتی طور پر مغلوب کرنے کے نت نئے طریقے وضع کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکے۔ اکیسویں صدی میں وہی اقوام دشمن پر برتری کا دعوٰی کرسکیں گی جو نیورو سائنس کے حوالے سے تحقیق کے میدان میں آگے ہوں گی اور اس بنیاد پر دشمن کو مغلوب کرنے کے طریقے بھی وضع کرنے میں کامیاب رہی ہوں گی۔‘‘

’’فطری علوم میں معروضی تحقیق اور قومی دفاع کے متعلق مقاصد میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ معاملات کو خفیہ رکھنے کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے نیورو سائنس اور متعلقہ ٹیکنالوجی کا استعمال اب ناگزیر سمجھا جارہا ہے۔ بھرپور طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ ابلاغی ذرائع کی مدد سے مخالفین کو رام کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔
ان ہتھیاروں پر بھی کام ہو رہا ہے جنہیں کسی بھی اعتبار سے مہلک قرار نہیں دیا جاسکتا۔لیکن وہ انتہائی مہلک ترین ہتھیار ہیں۔سیدھی سی بات ہے دھوکا دیا جا رہا ہے۔اس وقت دنیا میں تقریباً ممالک کے پاس خاص طور پر اسرائیل امریکی فوج کے پاس ایسے درجنوں ہتھیار ہیں جن کی مدد سے دشمن کو دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا جاسکتا! ایسا دھواں چھوڑا جاسکتا ہے جو افرا تفری پھیلا دے۔ خواب آور گیس بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ ایسے کیمیکل بھی تیار کرلیے گئے ہیں جن کی شدید بدبو زد میں آنے والوں کو بیمار کرسکتی ہے۔ بعض ایسے کیمیکل بھی تیار کرلیے گئے ہیں جن کے موثر استعمال سے مد مقابل سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عارضی طور پر محروم ہوسکتا ہے۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے طبیعت میں غیر معمولی گھبراہٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسی گھبراہٹ میں حریف غیر منطقی حرکتیں کرکے اپنی پوزیشن مزید کمزور کرسکتا ہے۔ یہ تمام ہتھیار دماغ پر اثر انداز ہونے والے ہیں۔ نیورو سائنس کے میدان میں پیش رفت نے جدید دنیا۔خاص طور پر اسرائیل امریکا۔ افواج کو اس قابل کردیا ہے کہ وہ دشمن کو غیر موثر بنانے والے بہت سے ہتھیار بناسکتی ہے اور بر وقت استعمال بھی کرسکتی ہے۔ دیگر ممالک بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔تقریبا تمام ممالک اس وقت خود کو دفاعی طور پر ہر میدان میں خود کو مضبوط کرنے کے لیے آگے آگے ہے۔۔۔
خفیہ ترین ہتھیار
بائیولوجیک حیاتی۔ جراثیمی کیمیکلز۔اور جادو کا سہارا لیا جا رہا ہے۔خاص عالمی نادیدہ طاقتوں کی طرف سے
ذرائع ابلاغ میڈیا الیکٹرونک پرنٹ سوشل میڈیا کسی جادو سے کم نہیں۔
جادو دماغ کو متاثر کرتا ہے اور
حقیقی جادو کا سہارا بھی یہ لوگ لے رہے ہیں۔
مزید تحقیقات اور مزید دل دہلا دینے والی رپورٹ اگلی تحریر میں۔
نوٹ یہ جتنی مرضی جدت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ظاہری یا چھپے ہوئے۔تمام ہتھیار روایتی اور غیر روایتی ہتھیار۔جادو وغیرہ کا توڑ۔موجود ہے۔سب سے بڑی کامیابی اسلام میں ہمیں ہر مشکل سے نکلنے کے لیے راستہ فراہم کیا ہے۔فرق اتنا ہے کہ اس راستے کو تلاش کرنے والا مسلمان آگے بڑھے۔
آج تک اسلام دشمن طاقتوں کے تمام پلان مشن ناکام ہو جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ۔۔
نوٹ یہ جتنی بھی تحریر کا خلاصہ یہ ہے
فیفتھ جنریشن وار۔ ذرائع ابلاغ ہائبرڈ وار فئیر۔کی ہی شاخیں ہیں نیو جدید انداز میں۔
اسے باریک بینی سے سمجھا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں