کالا باغ ڈیم کا تنازعہ

ذرائع کے مطابق

کچھ بنیادی باتوں کو بہت اچھی طرح سمجھ لیں۔ انہی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آج دشمن ہم پر کاری ضربیں لگا رہا ہے۔
1- جھوٹ اور پراپیگنڈہ جدید دور کی جنگوں میں دشمن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ بڑی بڑی جنگیں صرف پراپیگنڈہ کے ہتھیار سے ایک گولی چلائے بغیر جیتی جاسکتی ہیں، اور آج ہمارے خلاف دشمن کا یہ سب سے موثر ہتھیار ہے۔
2- پاکستان کے خلاف جو ایک بہت بڑا ہتھیار بھارت اور ہمارے دشمن استعمال کر رہے ہیں، وہ پانی ہے۔ صرف ہمارا پانی روک کر وہ پاکستان کو اس طرح تباہ کر سکتے ہیں کہ جیسے ایٹمی جنگ میں۔
جب پانی رکتا ہے تو پاکستان کی خوراک تباہ ہوتی ہے، بجلی بنانے کی صلاحیت تباہ ہوتی ہے، صنعت و معیشت تباہ ہوتی ہے، ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوتی ہے، صوبوں میں باہمی اختلافات اور جھڑپیں شروع ہوتی ہیں اور پھر وہ ہوتا ہے کہ
جو یوگو سلاویہ میں ہوا اور آج شام میں ہورہا ہے۔
3- ایک قائدہ یاد رکھیں، کہ جس منصوبے کو روکنے کیلئے بھارت اپنی تمام طاقت کو جھونک دے، جس کو
اسفند یار ولی
اور محمود اچکزئی جیسے غداران وطن روکنے کیلئے دھمکیاں دیں، تو سمجھ جائیں کہ وہ منصوبہ پاکستان کی سلامتی اور بقاء کیلئے لازم و ملزوم ہے۔کالا باغ ڈیم سی پیک سے بھی زیادہ پاکستان کی
شہہ رگ ہے۔ اسی لیے اس کی مخالفت بھی سی پیک سے بھی زیادہ ہو رہی ہے۔ان تین قائدوں کو بیان کرنے کے بعد اب ہم کالا باغ ڈیم کے تنازعہ کی تفصیلات میں آتے ہیں۔
کالا باغ ایک قدرتی پہاڑی سلسلہ ہے کہ جس کے درمیان سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ کالا باغ کے فوراً بعد پاکستان کے میدانی علاقے شروع ہو جاتے ہیں،
لہذا قدرتی طور پر کالا باغ ایک بنا بنایا ڈیم ہے، کہ جس کے دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ اس مقام پر دریا کے آگے صرف دیوار بنا کر ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے قلب میں ہونے کی وجہ سے یہاں تک رسائی بہت آسان ہے، بھاری مشینری، افرادی قوت اور ساز و سامان بغیر کسی دقت کے ڈیم تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے آگے میدانی علاقہ ہونے کی وجہ سے ڈیم سے کئی نہریں نکال کر پورے ملک میں پھیلائی جا سکتی ہیں۔ دریائے سندھ کے آس پاس آٹھ لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہو گی، تقریباً تربیلا اور منگلا جتنا پانی اس میں ذخیرہ ہو گا، اگر بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں کی تعداد بڑھائی جائے تو صرف اس مقام پر 6 ہزار میگاواٹ سے زائد انتہائی سستی پن بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
غازی بروتھا کے طرز پر نہریں نکال کر اور مقامات پر بھی بجلی پیدا کی جائے تو یہ ہزاروں میگاواٹ تک مزید بڑھائی جا سکتی ہے، جس کی قیمت تقریباً 2 روپے فی یونٹ ہو گی۔ صرف زرعی شعبے اور خوراک کی پیداوار میں اس ڈیم سے ہونے والی آمدنی 100 ارب روپے سال سے زیادہ متوقع ہے۔ بجلی سے ہونے والی آمدن اور کمائی اس کے علاوہ ہے۔ پانی کی جھیل مچھلیوں کی افزائش اور سیاحت کیلئے موزوں ترین۔
تربیلا اور منگلا ڈیم جو 60 ء کی دہائی میں بنائے گئے تھے اور جن کے اوپر آج تک پورا پاکستان چل رہا ہے، اب اپنی عمر کے آخری حصہ میں پہنچ چکے ہیں۔ ان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اپنے آغاز سے لیکر آج تک انتہائی کم ہو چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج نوے فیصد سے زائد ہمارا ذخیرہ کرنے والا پانی ضائع ہو کر سمندر میں جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں آنے والے تمام دریاﺅں پر بھارت نے ڈیم بھی بنا لیے ہیں۔ ہولناک آبی قلت اب ایک حقیقت بن کر پاکستان کی پوری سلامتی کیلئے شدید ترین خطرہ بن چکی ہے۔ صرف پاکستان دشمنی، جھوٹ اور پراپیگنڈہ اور حکمرانوں کی نا اہلی تھی کہ جس کے باعث پچھلے 40 برس میں منگلا یا تربیلا کی طرز پر کوئی ایک بھی ڈیم نہیں بنایا جاسکا۔
دیامیر بھاشا ڈیم کسی صورت میں بھی کالا باغ ڈیم کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
ایک تو وہ پاکستان کے شمال میں جس بلندی پر ہے. وہاں تک رسائی, ڈیم کی تعمیر, وہاں تک پہنچنے اور بھاری مشینری پہنچانے کیلئے ہی اتنے پہاڑ کاٹنے پڑ رہے ہیں.

اس کے علاوہ یہ امر بھی ہے کہ بھاشا ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکالی جا سکتی
کیونکہ علاقہ سارا پہاڑی ہے اور کوئی علاقہ یا کھیت اس سے سیراب نہیں کیا جا سکتا۔
بھاشا ڈیم بن بھی جائے گا اس میں پانی بھی ذخیرہ کیا جائے گا، بجلی بنائی جا سکتی ہے، مگر قریب تر میں ایک ایکڑ اراضی بھی کاشت کاری کیلئے میسر نہیں ہے ۔
اب ہم ایک ایک کر کے ان تمام اعتراضات کا جواب دینگے کہ جو کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اب تک کیے جاتے رہے ہیں۔
پہلا اعتراض:
پاکستان کی دو صوبائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کو مسترد کردیا ہے۔ لہذا اب اس کو کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
دوسرا اعتراض: اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو اس سے نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور ڈوب جائے گا۔
تیسرا اعتراض: اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو اس سے سندھ بنجر ہو جائے گا۔
چوتھا اعتراض: ڈیم بنانا ہی کیوں ضروری ہے، کہیں اور کیوں نہیں بنا لیتے؟
آئیے اب ان اعتراضات کو ایک ایک کر کے ادھیڑتے ہیں۔
یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاکستان کے دو صوبوں نے اس ڈیم کی مخالفت نہیں کی، صرف دو سیاسی جماعتوں نے کی ہے۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے اپنے دور اقتدار میں سرحد اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں سے اس ڈیم کے خلاف قرارداد پاس کروائی، اور دونوں ہی کی وجوہات جھوٹ، پراپیگنڈہ، خرافات اور پاکستان دشمنی پر مبنی ھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مختلف اعتراضات کیے۔
عوامی نیشنل پارٹی کا اعتراض یہ تھا کہ اس سے نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا اعتراض یہ تھا کہ سندھ بنجر ہو جائے گا۔ دونوں نے ہی نہ کوئی دلائل دیئے، نہ کوئی تکنیکی ثبوت پیش کیے، نہ ہی کوئی دوسرا حل پیش کیا اور نہ ہی پاکستان کو پیش آنے والے اس بحران کے خلاف آواز اٹھائی۔ دونوں ہی کے اعتراضات شرمناک بدنیتی اور پاکستان دشمنی پر مبنی ہیں۔ آئیں اب آپ کو بتاتے ہیں کیسے؟پاکستان کی تاریخ میں جتنا تجزیاتی اور تحقیقی کام قومی اور غیر ملکی اداروں نے کالا باغ ڈیم پر کیا ہے وہ کسی اور ڈیم پر نہیں ہوا۔ اربوں روپے کی لاگت سے اس کی تعمیری روپوٹس تیار کی گئی ہیں۔ پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغ اور سائنسدانوں نے ان پر کام کر کے اپنی رائے دی ہے اور کالا باغ کے مقام کو ایک بڑا ڈیم بنانے کیلئے موزوں ترین قرار دیا ہے۔
اب خود عقل سے کام لیں، کیا پاکستان کے انجینئروں اور سائنسدانوں کا دماغ خراب ہے کہ وہ ایسا ڈیم ڈیزائن کریں گے کہ جو نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کو غرق کر دے گا ؟
خان عبدالغفار خان، ولی خان اور اسفندیار ولی ملک و قوم و ملت کے پکے ثابت شدہ غدار اور مشرکوں کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے پاکستان بننے کی بھی مخالفت کی تھی،
تو کیا ہم پاکستان نہ بناتے؟ انہی کی وجہ سے صوبہ سرحد سے ریفرنڈم کرانا پڑا کہ کیا آپ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں۔
ان کی بے شرمی اور بے غیرتی اس حد تک تھی کہ یہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے غیور پشتونوں کو ہندوﺅں کا غلام بنانے جا رہے تھے۔ آج یہ حرام خور منظور پشتین کی پوری تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ساری زندگی پشتونستان بنانے کیلئے پاکستان کی پیٹھ میں خنجر مارتے رہے۔
جب ان جیسا ناپاک گروہ ایک فحش پراپیگنڈہ کرے کہ
کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہرہ اور پشاور ڈوب جائے گا تو ذرا ہوش سے کام لیکر غور کریں کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے؟
کالا باغ کے مقام سے دریائی راستے سے اٹک تقریباً 95 میل دور ہے۔
جب دریا کے آگے ڈیم بنایا جاتا ہے تو ڈیم کے پیچھے ایک پانی کی جھیل بننا شروع ہو جاتی ہے۔
اس جھیل کی گہرائی اور پیچھے تک لمبائی کا تعلق ڈیم کے آگے بنائی گئی دیوار کی اونچائی سے ہوتا ہے۔ جتنی اونچی دیوار ہوگی اتنی ہی گہری اور لمبی جھیل پیچھے بنتی جائے گی۔
منگلا اور تربیلا ڈیم کی جھیلیں بھی کئی کئی کلومیٹر پیچھے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی طرح کالا باغ کی جھیل بھی تقریباً 50 میل پیچھے تک جائے گی،
جبکہ کالا باغ سے اٹک تک کا فاصلہ 95 میل ہے اور نوشہرہ تو اس سے بھی پیچھے ہے۔ اگر کالا باغ کی جھیل مکمل بھی بھری ہو. تب بھی اس کی سطح نوشہرہ سے 60 فٹ نیچے رہے گی۔ تکنیکی طور پر اس جھیل کی وجہ سے نوشہرہ کا ڈوبنا
نا ممکن ہے۔ اس کے باوجود جاہلوں کی تسلی کیلئے رپورٹس میں یہ بھی گنجائش رکھی گئی تھی کہ ڈیم کی اونچائی کو مزید کم کر دیا جائے کہ جس سے جھیل کی گہرائی اور پیچھے لمبائی مزید کئی میل کم ہو جائے گی۔ اس فحش اور جھوٹے اعتراض کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس اس ڈیم کی مخالفت کرنے کی اور کوئی دوسری دلیل سرے سے ہے ہی نہیں۔
اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ بھارت افغانستان میں دریائے کابل پر بھی ڈیم بنا رہا ہے
کہ جس کا مقصد پاکستان میں دریائے کابل کے بہاﺅ کو مکمل طور پر روکنا اور بارشوں کے وقت میں اچانک پانی چھوڑ کر سیلاب کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔ نوشہرہ چند برس پہلے ڈوب چکا ہے، اور اس کی وجہ کالا باغ ڈیم نہیں تھا ، ولی خان اور اسفند یار ولی کے بھائی ہندو مشرکوں کی وہ شرارت ھے. کہ جو انہوں نے دریائے کابل پر افغانستان کے راستے کی، مگر آپ ان حرام خوروں کو کبھی ان کے اپنے ہندو بھائیوں کے خلاف بولتے نہیں سنیں گے۔……
اب آئیں پیپلز پارٹی کے اعتراض کی جانب۔ ولی خان گروہ تو کھلم کھلا پاکستان دشمنی میں اس ڈیم کی مخالفت کر رہا ہے، مگر پیپلز پارٹی کے اس ڈیم کے مخالفت کرنے کی وجہ اس قدر شرمناک ہے کہ انسان کو ابکائی آ جائے۔
آئیں آپ کو تفصیل بتاتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے سندھ کے ان پڑھ اور سادہ عوام کو یہ کہہ کر بیوقوف بنایا کہ اگر یہ ڈیم بن گیا تو پنجاب سندھ کا سارا پانی لے جائے گا اور سندھ بنجر ہو جائے گا، اور اس سے سمندر کا پانی سندھ میں چڑھ آئے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی نے بھی اپنے اس شرمناک پراپیگنڈہ کا نہ کوئی ثبوت دیا، نہ دلیل، کیونکہ کچھ تھا ہی نہیں۔ صرف فحش جھوٹ! مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سندھ نے یہ اعتراض ہی نہیں کیا کہ اس ڈیم کے نتیجہ میں نوشہرہ اور پشاور ڈوب جائیں گے، کیونکہ وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ تکنیکی بنیادوں پر وہ اس الزام کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔ ایسے بے شرم صرف ولی خان ہی ہیں کہ جو بغیر کسی ثبوت و دلیل و تحقیق کے نوشہرہ ڈوبنے کا ماتم کرتے ہیں۔
ایک لمحے کیلئے یہ سوچیں کہ کیا منگلا اور تربیلا ڈیم بننے سے سندھ بنجر اور ویران ہوگیا، یا خوشحال ہوا؟ منگلا اور تربیلا ڈیم کی بجلی صرف پنجاب نے کھائی یا پورا پاکستان خوشحال ہوا؟ منگلا اور تربیلا ڈیم کی زرعی نظام سے پیدا ہونے والی خوراک صرف پنجاب نے کھائی یا پورا پاکستان خوراک میں خودکفیل ہوا؟ جب منگلا اور تربیلا کا پانی ایک نظام کے تحت سندھ اور پنجاب میں تقسیم ہو رہا ہے تو کالا باغ کا سارا پانی پنجاب کیسے ہڑپ کرلے گا؟ جب پچھلے پچاس برس سے ایک نظام پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے تو اچانک بیٹھے بٹھائے ضائع ہوتے ہوئے پانی کا ذخیرہ بنانے سے سندھ کیسے بنجر ہوجائے گا ؟
ایک معمولی سا شعور رکھنے والا پاکستانی مسلمان بھی سمجھ سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس ڈیم پر صرف سیاست کر رہی ہے ، سندھ کارڈ کھیل رہی ہے، اپنا ووٹ بینک بنارہی ہے، اور زرداری اپنی اصل حرام کی کمائی بچا رہا ہے کہ جس کی تفصیل اب ہم آپ سے بیان کریں گے۔
جنرل ضیاء کے دور میں کالا باغ ڈیم کی مکمل رپورٹس تیار ہوچکی ھیں۔ اس ڈیم پر کام بھی شروع ہونیوالا تھا مگر جنرل ضیاء کی شہادت کی وجہ سے سارا کام وہیں رک گیا۔ آنے والا دور پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے درمیان پوری قوم کا بیڑہ غرق کرتے ہوئے گزرا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 90 کی دہائی میں زرداری کے خلاف جو سب سے بڑا سیکنڈل بنا تھا وہ آئی پی پیز کا تھا، یعنی ”پرائیویٹ بجلی گھر“، کہ جن کے ٹھیکے زرداری نے اس دور میں دیئے تھے۔ یہ پرائیویٹ بجلی گھر آج بھی دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہ ڈیزل سے چلتے ہیں۔ ان کو چلانے کیلئے اربوں ڈالر کا ڈیزل ہر سال پاکستان کو درآمد کرنا پڑتا ہے۔
جس کی وجہ سے آپ نے ایک اصطلاح اور بھی سنی ہو گی ”گردشی قرضے“۔ یعنی اربوں ڈالر خرچ کر کے آپ دنیا سے پٹرول امپورٹ کریں، پھر یہ پٹرول جلا کر دنیا کی سب سے مہنگی بجلی 16 روپے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کریں، ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کریں، جب اتنے مہنگے پٹرول کی قیمت ملک نہ ادا کر سکے تو قرضے پر بجلی بنائیں، کہ جس سے گردشی قرضے ملک کی کمر توڑتے رہیں، یہ ہے سارا خیانت اور فراڈ کا نظام کہ جو زرداری نے قائم کیا تھا، اور آج بھی وہی اس کو چلا رہا ہے۔
اس سارے فراڈ میں آج تک زرداری اپنا کمیشن کھا رہا ہے !!!
یہ ہے وہ اصل وجہ
کہ یہ حرام خور کالا باغ ڈیم کے خلاف قرار داد پاس کرواتا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو ہر سال پانچ ارب ڈالر کا تیل امپورٹ کرنے کی ضرورت نہ پیش آتی،
اس کے اربوں ڈالر کے کمیشن مارے جاتے۔ آپ نوٹ کریں گے کہ اس نے اپنے سب سے بڑے ڈاکو دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو پاکستان اسٹیٹ آئل PSO کا چیئرمین لگایا تھا۔ غور کریں کیوں؟ اس لیے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں اصل مال بنایا جاتا ہے۔ آپ PSO سے ریکارڈ نکلوا لیں، جتنے بڑے بڑے بحری جہاز تیل لیکر پاکستان آتے ہیں، ان میں پیپلز پارٹی کی پوری قیادت کا حصہ ہوتا ہے۔ زرداری کا دماغ خراب نہیں ہے کہ16 روپے یونٹ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو چھوڑ کر 2 روپے یونٹ بجلی پیدا کرنے والے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرے۔ اس کی ایک پکی آمدنی لگی ہوئی ہے، تیل کی خریداری میں بھی اور مہنگی بجلی سے بھی۔
اگر مسئلہ سندھ کے پانی کا ہوتا اور یہ اس پر اپنی نیندیں حرام کر رہے ہوتے تو ان کو سب سے زیادہ احتجاج تو نریندر مودی کے خلاف کرنا چاہیے تھا کہ جس نے پاکستان میں داخل ہونے والے تمام دریاﺅں پر سینکڑوں ڈیم بنا کر پانی کا بھاﺅ تقریباً روک دیا ہے۔ اب کشن گنگا ڈیم بھی بنایا جارہا ہے، کہ جو دریائے نیلم کو بھی بند کردے گا، مگر آج تک آپ نے زرداری کے حلق سے بھارت کی جانب سے سندھ اور پاکستان کا پانی روکنے پر ایک آواز نہیں سنی۔ وجہ اب آپ کو معلوم ہوئی ہے کہ یہ حرام خور سندھ کے پانی کیلئے پریشان نہیں تھے، اپنے پرائیویٹ بجلی گھروں اور تیل کی آمدن میں کمی کے خوف سے کالا باغ ڈیم کے مخالف تھے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اب آخری سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ صرف کالا باغ ہی کیوں؟
ملک میں اور بھی تو بہت سارے مقامات ہونگے ڈیم بنانے کیلئے۔ اس کا بنیادی جواب تو ہم اوپر دے ہی چکے ہیں۔ اس ڈیم کی تعمیر کی بنیادی رپورٹس بنانے پر ہی اس قوم نے اپنے تیس برس لگا دیئے، اربوں روپے خرچ کر دیئے، اور تمام تر توجہ
جنرل ضیاء کے دور سے اسی ڈیم کی تعمیر پر مرکوز تھی۔ اس کا کاغذی اور تکنیکی کام مکمل ہے۔ اس کو فوری شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر آج بھی اس ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے تو مکمل ہونے میں پانچ برس لگیں گے۔ جو وقت ضائع ہو چکا ہے اس کا کفارہ اب بھوک، پیاس ، گرمی اور معیشت کی تباہی کی شکل میں پوری قوم کو دینا ہی پڑے گا۔
اورا سکے مرکزی ذمہ دار دو غدار ہیں، اسفند یار ولی اور آصف زرداری !!!
کسی بھی اور ڈیم کی تعمیر کیلئے ابتدائی رپورٹس سے لیکر مکمل ہونے تک دس برس کا عرصہ لگ جائے گا۔ ملک میں جس طرح پانی کا قحط پڑتا جا رہا ہے، جس تیزی سے بھارت ہمارے دریاﺅں کا پانی بند کر رہا ہے، اور جس تیزی سے ملک کی معیشت تباہ ہوتی جار ہی ہے، خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے، ان سب باتوں کے تناظر میں ہمارے پاس کوئی راستہ اور نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم فوری طور پر کالا باغ ڈیم پر کام شروع کریں۔ جتنا دیر کریں گے، اتنا ہی اللہ ہمیں خوف اور بھوک کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔عمران خان کو ایک سنہری موقع ملا تھا کہ جس طرح عوامی نیشنل پارٹی نے اس ڈیم کی مخالفت میں قرارداد پیش کی تھی، تحریک انصاف اس کی حمایت میں پیش کر دیتی۔ مگر ملک و قوم کی بدنصیبی کہ پرویز خٹک بھی ایک جاہل اور اس معاملہ میں اسفند یار ولی کا حمایتی ہے۔
آپ نے سی پیک کے معاملے پر بھی دیکھا کہ کس طرح اس کو متنازعہ بنانے کیلئے ملک میں بھرپور جھوٹ اور پراپیگنڈہ کی مہم چلائی گئی۔ کبھی سڑکوں کے روٹ پر تنازعہ، کبھی اپنے حصے پر تنازعہ، کبھی پیسوں پر تنازعہ۔۔۔ مگر چونکہ اس منصوبہ کے پیچھے چین کا زور اور پاک فوج کا ڈنڈا تھا، تو سارے سیاسی لفنگے ایک ایک کر کے چپ ہوتے گئے اور اب اس لوٹ مار میں اپنا اپنا حصہ نکال رہے ہیں۔ عوام الناس سے تو نہ پہلے کسی نے پوچھا نہ بعد میں۔
آج تک پاکستان کا کونسا ایسا پراجیکٹ ہے کہ جس میں عوام سے رائے لی گئی ہو؟
سارے فیصلے سیاستدان خود کرتے ہیں، خود ہی جھوٹ بولتے ہیں، خود ہی پراپیگنڈہ کرتے ہیں، خود ہی کمیشن کھاتے ہیں، خود ہی مسئلے کا حل بھی نکالتے ہیں اور خود ہی لوٹ مار بھی کرتے ہیں۔
سندھ کے سادہ لوح عوام کو اور صوبہ سرحد کے غیور پشتونوں کو صرف دھوکہ دیا گیا ہے، اور دھوکہ دینے والے بھی وہ ہیں کہ جو ہزار دفعہ آزمائے جا چکے ہیں کہ ملک و قوم و ملت و دین کے دشمن و غدار ہیں۔ اس کے باوجود اگر قوم اور حکومت انہی غداروں کی مرضی پر پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرے
تو پھر اس قوم کو اللہ سے اپنی تقدیر کا شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ قوم بہت اچھی طرح اس بات کو سمجھ لے، گزشتہ کئی دہائیوں کی لرزہ خیز غلطیوں کا اب بہت سخت کفارہ بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نہ اسفند یار ولی کی دلیلیں سنے گا، نہ زرداری کی تقریریں۔ وہ صرف اس قوم کو کفرانِ نعمت پر ایک دردناک عذاب دے گا۔ آج کراچی کے لوگ اسی زرداری اور الطاف حسین کی وجہ سے بجلی اور پانی کے جس عذاب سے گزر رہے ہیں وہ صرف ایک جھلک ہے اس عذاب کی کہ جو جلد اس پوری قوم پر آنے والا ہے۔ اس وقت آپ کو ان بقراطوں کی دلیلیں نہیں، صرف عوام کی چیخیں سنائی دیں گی۔
ظالمو! ابھی بھی وقت ہے، توبہ کر لو، اپنی اصلاح کر لو، اللہ نے یہ تحفہ جو پاک سرزمین کی شکل میں دیا ہے، اس کی قدر کر لو !!!
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، اللہ پاکستان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کرے،
اللہ کالا باغ ڈیم کے مخالفوں کو دنیا و آخرت میں رسوا کرے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں