یونیورسٹی آف ساہیوال

ذرائع کے مطابق

یونیورسٹی آف ساہیوال سنٹرل پنجاب میں ابھرنے والی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں نئی اور چھوٹی یونیورسٹی ہے۔ جو کہ 2004سے 2015 تک بی زیڈ یونیورسٹی ملتان کے سب کیمپس ساہیوال کے طور پر کام کرتی رہی۔ 2015 میں میں یونیورسٹی آف ساہیوال کا ایکٹ پاس ہوا اور یونیورسٹی نے ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم کو چھ ماہ کے لیے وائس چانسلر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جبکہ ڈاکٹر محمد ناصر افضل باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے دوسالہ قیام کے دوران فیکلٹی کے 12 لوگوں کے ساتھ یونیورسٹی کی سیچوئٹری باڈیز یعنی بورڈ آف سٹڈیز، اکیڈیمی کونسل، بورڈ آف ایڈوانس ریسرچ اور فنانس اور پلیننگ کمیٹی بنائی اور یونیورسٹی کو ایک ٹریک پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی فیکلٹی جو کہ 12 اساتذہ پر مشتمل تھی ،سلیکشن بورڈ کرا کے اس تعداد کو 85 تک پہنچا دیا۔دسمبر 2020 میں یونیورسٹی کا چارج ڈاکٹر محمد ذکریا ذاکر کو دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد ذکریا ذاکر ایک قابل سماجی سائنس دان اور فل برائٹ سکالرز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں زیادہ عرصہ پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ اس وقت وہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور ایڈیشنلی یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ دسمبر 2020 سے مارچ 2021 تک محترم وی سی صاحب نے تمام فیکلٹی سے متعدد بار اوپن فورم میں میٹنگز کی ہیں۔ اور تمام فیکلٹی ممبران کی مشاورت سے یونیورسٹی کی اپ گریڈیشن کے لئےبہت اہم فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے اوپن فورم میٹنگز میں تمام فیکلٹی اور ایڈ منسٹریشن کے ساتھ ملکر یونیورسٹی کو آ گے لانے اور QS کا ممبر بنانے کے لیئے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے تمام شعبوں سے فیکلٹی ممبران جن میں خواتین اور مرد اساتذہ دونوں شامل ہیں کومختلف ذمہ داریاں سونپی۔ انہوں نے رجسٹرار جنرل کے ساتھ رجسٹرار اکیڈیمک، رجسٹرار ایچ آ ر ایم، رجسٹرار امپلیمنٹیشن ،رجسٹرار لیگل اور رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ منسلک کئے ہیں۔ تاکہ یہ نئی جامعہ اپنے تمام شعبوں میں یکساں طور پر آ گے بڑھ سکے۔ انہوں نے تمام فیکلٹی کو یونیورسٹی کی اپ گریڈیشن میں حصہ لینے پر حوصلہ افزائی کی۔ یونیورسٹی میں ڈائرکٹریٹ آف QS بھی قائم کیا گیا ہے جس نے یونیورسٹی کی world ranking پر کام شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح ٹریرار آفس کے بھی الگ الگ ونگز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی ضمن میں ورکنگ متاثر نہ ہو۔ ڈاکٹر زکریا ذاکر ادارے میں اعتماد کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تمام فیکلٹی ممبران کو تحقیقی مقالہ جات لکھنے پر گرانٹ دینے کا اعلان بھی کیا اور کہا ہے کہ تمام فیکلٹی ممبران اپنے شعبہ جات میں تحقیق کو روشناس کرائیں جو کہ کسی بھی جامعہ کا نصب العین ہو تا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مستحق طلباء کے لیے فیس میں رعایت اور تعلیمی وظائف کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں