کیا واقعی عمران خان اور جنرل باجوہ نے کشمیر کا سودا کیا؟

28 اکتوبر 1999
نئی دہلی:
سابق بھارتی وزیر اعظم
اندر کمار گجرال نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں ان پانچ دہشت گردوں (کشمیری مجاہدین) کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں جنھیں وادی کشمیر میں اسٹنگر میزائل کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

گجرال نے حیرت انگیز تفصیلات سے انکشاف کیا ہے. کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ ان کے کتنے قریب تھے اور ان کی دوستی کی گہرائی سے بھارت پاکستان دوطرفہ تعلقات سے جھلک پڑتی ہے جب کہ وہ اقتدار میں تھے۔

(یاد رہے کہ ان تعلقات میں بھارت کو ریاستی جبکہ
نواز شریف کو ذاتی طور پر فوائد حاصل ہوئے).

ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، گجرال نے اپنے اقتدار میں آنے والے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وادیِ کشمیر میں اسٹرنگر میزائل کے ساتھ گرفتار ہونے والے پانچ دہشت گردوں (کشمیری مجاہدین) کے بارے میں ہاٹ لائن پر نواز شریف سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہم منصب نواز شریف نے ان کی درخواست پر انہیں دہشت گردی
(کشمیری مجاہدین کی کاروائی)

کے واقعہ سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔

گجرال کے مطابق
“نوازشریف نے کہا کہ وہ پورے دن میں انتہائی مصروف رہتے تھے اور کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر دہشت گردی
(کشمیری مجاہدین کی کاروائی) کے واقعہ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر سکیں۔ ہم پنجابی میں بات کر رہے تھے۔ نواز شریف کا خلوص، اس بات پر گواہ تھا کہ انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے کی کتنی فکر تھی. میرے لئے وہ صرف ایک حکومت کے سربراہ ہی نہیں تھے ، بلکہ ہمیشہ ایک عزیز دوست بھی رہتے تھے۔

“ذاتی طور پر شریف سے میری وابستگی 1994 کی ہے۔ اس کے بعد میں سارک کی ٹریک II کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان گیا تھا۔
نواز شریف نے مشاہد حسین کو جو بعد میں نواز شریف کے وزیر اطلاعات بنے تھے, راولپنڈی میں مجھ سے ملنے اور ان کے گھر چائے پہ مدعو کرنے کے لئے بھیجا.

اس وقت بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں اور نوازشریف اپوزیشن کے ایک اہم رہنما تھے۔ مشاہد اور میں پرانے دوست تھے۔
“میں نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں کلدیپ نیئر کے گھر ان سے ملاقات کی تھی جب وہ ہندوستان میں تھے۔
میں نے نوازشریف کی دعوت قبول کر لی تھی ۔
میاں صاحب سے ملاقات کے بعد ان سے تعلقات میں مزید وسعت آئی.
سرتاج عزیز اور اس کے دیگر ساتھی بھی وہاں تھے۔

میں نے تقریبا دو گھنٹے
نواز شریف کے یہاں قیام کیا، اور متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا، جس میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی شامل تھے ۔
نوازشریف نالاں تھے کہ بے نظیر اس سمت میں کافی کام نہیں کر رہی تھیں۔
یہ نئی دہلی میں سارک سمٹ سے ایک مہینہ پہلے بات تھی کہ
بے نظیر اجلاس میں نہیں آئیں اور اس نے اپنی جگہ اپنے وزیر خارجہ کو بھیج دیا,

مزید اے کے گجرال کہتے ہیں کہ 1996 میں جب میں
وزیر خارجہ بنا تو ہمارا رشتہ مزید گہرا ہو گیا۔
نواز شریف نے گوہر ایوب کو تعاون کا پیغام بھیجا۔ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے مرحلہ کا آغاز ہوا۔

(( افسوس کا مقام یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ ریاستی مفادات کو سامنے رکھا.
اور ہمارے حکمرانوں نے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ))

“اس کے بعد جیسے ہی میں وزیراعظم منتخب ہوا اور سارک کانفرنس کے دوران ہم نے مالدیپ میں ملاقات کی۔
پہلی بار ہم منصبی عہدہ پہ ہونے والی ملاقات میں نوازشریف خاصے پرجوش نظر آئے.
انہوں نے جوش و خروش سے بتایا کہ جس دن میں نے حلف اٹھایا تھا.
اس دن میرے آبائی شہر جہلم کے لوگوں نے خوشی میں چراغاں کیا تھا ۔

اس کاٹیج میں ناشتہ پہ ہم دونوں نے اپنے دوطرفہ تعاون کا وسیع خاکہ تیار کیا۔ ہم نے متعدد دیگر مواقعوں پر، نیویارک، ایڈنبرا اور ڈھاکہ میں بھی ملاقاتیں کیں۔ ہم نے اپنے تعلقات کو ہمارے تک ہی محدود نہیں رکھا
بلکہ ہمارے کنبہ کے افراد تک بھی بڑھا دیا۔ جب ان کا بیٹا نجی دورے پر ہندوستان آیا تھا تو اس نے ہم سے ملاقات کی تھی۔
نواز شریف کی مجھ سے چھوٹی نسل مجھے اپنے بزرگ کی حیثیت سے دیکھتی تھی ۔

“جب ہم اپنی اہلیہ کے ساتھ نیویارک میں ملے،
نواز شریف نے ایک خوبصورت قالین پیش کیا
جس کے آج تک ہم قدر دان ہیں۔ شریفوں نے مجھے خاندان کے ایک انتہائی قریب فرد کے طور پہ سمجھا،
ہم اکثر حکومتوں کے مسائل اور یہاں تک کہ ذاتی معاملات پہ بھی گفتگو کیا کرتے تھے.

“ایڈنبرا میں، ہم اپنے اپنے وفود کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے
جب نواز شریف نے کہا ، کہ
” آپ ہم سے بجلی کی خریداری کیوں نہیں کرتے ہیں؟
“میں نے کہا کہ میں خواہش مند تھا اور ہمارے وزیرِ تجارت، جو ہمارے ساتھ بھی تھے انہیں کہا کہ اس حوالہ معاملات دیکھیں۔ اس دوران نواز شریف کے سکریٹری خارجہ نے کہا کہ: “آئیے تعاون کی بات کرنے سے پہلے مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔” شریف اور میں نے اس اختلافی نوٹ کو نظرانداز کیا، لیکن بعد میں، میں نے
نواز شریف سے پوچھا کہ ان کا افسر اس طرح بولنے کی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟
نواز شریف نے سر ہلاتے ہوئے کہا، ” کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں نے اسے نہیں دیکھا ؟”

نوازشریف ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے تھے ، لیکن انہیں اس ضمن میں سخت گیر جملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا,
جو کہ ہمارے تعلقات کی راہ میں حائل ہوئے۔
بعد میں ہم نے ٹیلیفون اور خط کے ذریعے رابطہ رکھا۔
جب ہم نے ایٹمی تجربات کیئے ،
تو میں نے انہیں فون کیا اور ایٹمی دھماکوں روکنے پر مزاحمت کرنے کا کہا،
تو اس پر بھی نواز شریف کا ردعمل خاصہ گرمجوش تھا۔ پھر کارگل تنازعہ شروع ہوا میں نے اس سے بھی نوازشریف سے بات کی تھی. نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ فون کرے گا لیکن اسکے بعد حالات سازگار نہ رہے.

یہ تھے محترم میاں نواز شریف جنہوں نے نہ صرف اپنے ضمیر اور ریاست کا سودا کیا تھا.
بلکہ کشمیر کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار بلکہ بیسیوں بار بیچا تھا.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں