اپریل فول ایک لعنت

اپریل فول ایک ایسی لعنت ہے جس میں مشرکین کیساتھ مسلمان بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں یہ سوچے سمجھے بنا کہ اس سے دینی اعتبار سے کس قدر نقصان ہوتا ہے اور یہ سب لاعلمی کی بدولت انجانے میں ایک بڑے گناہ کے حصہ دار بن جاتے ہیں ، قرآن و احادیث کی روشنی میں جان نے کی کوشش کرتے ہیں کہ اپریل فول منانے والے حضرات کو کیا حاصل ہوتا ہے !

حدیث شریف کا مہفوم ہے :

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا !
(صحیح بخاری حدیث # 4031)

تشریح : اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں مسلمانوں کو کسی دوسری قوم سے مشابہت کی دین اسلام میں اجازت نہیں !

تو کیا اپریل فول منانا دین اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟

حدیث شریف کا مہفوم ہے :

حضرت بہز بن حکیم کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد کے واستے سے بیان کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو گفتگو میں قوم کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے اس کی بربادی ہے اس کی بربادی ہے !
(سنن ابوداؤد حدیث # 1552)

تشریح : چونکہ اپریل فول کا انحصار جھوٹ پر ہے اس لئے اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول دین اسلام میں منانا قطعی جائز نہیں بلکہ اپریل فول منانے والے کے لئے صرف بربادی ہی بربادی ہے !

اللہ سبحان تعالیٰ کا فرمان ہے قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (سورہ الذاریات آیت نمبر 10)

ترجمہ : بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے !

سبھی جانتے ہیں کہ اپریل فول میں صرف جھوٹ ہی جھوٹ بولا جاتا ہے اس میں کوئی بھی بات سچی (مستند) نہیں ہوتی اسلئے اپریل فول منانے والے جان لیں کہ ان کے لئے قرآن کے اعتبار سے اور اوپر دی گئی حدیث کی رو سے بربادی ہی بربادی ہے، جھوٹ بولنے والوں کے لئے قرآن میں ایک اور جگہ لعنت بھی بھیجی گئی ہے !

اللہ سبحان تعالیٰ کا فرمان ہے لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (سورہ آل عمران آیت # 61)

ترجمہ : جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں !

اس قرآنی آیت کریمہ میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے !

اپریل فول منانے والے حضرات کیا اللّٰه تعالٰی کی لعنت کے حقدار بننا چاہینگے ؟

حدیث شریف کا مہفوم ہے :

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ جھوٹ فسق و برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی و فجور جہنم کی طرف لیجاتا ہے اور بیشک آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بولتے بولتے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے اللہ کے یہاں اور تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچائی نیکی کی رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بیشک آدمی سچ بولتا ہے اور اس کی سچائی جاری رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ لیا جاتا ہے !
(سنن ابوداؤد حدیث # 1551)

تشریح : اس حدیث مبارکہ سے بات اور واضح ہوئی کہ مسلمان کا سچ بولنا اسے جنت کی طرف لے جاتا ہے اور اس کا جھوٹ بولنا اسے جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اب اس کا اختیار آپ کے اپنے پاس ہے کہ سچ بول کر جنت یا جھوٹ بول کر جہنم کو پسند کرتے ہیں !

حدیث شریف کا مہفوم ہے :

حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کیا مومن بودا بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر پوچھا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پوچھا گیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا نہیں !
( موطا امام مالکؒ حدیث # 2371 )

تشریح : اس حدیث سے بات آئینے کی مانند صاف ہوئی کہ مومن کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا !

مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ اپریل فول منانے کی رتی برابر بھی گنجائش دین اسلام میں نہیں اور ساتھ ہی عام حالات و ایام میں بھی جھوٹ بولنے کی اجازت قطعی نہیں !

خلاصہ کلام اپریل فول منا کر کیا حاصل ہوگا ؟

1) دوسری قوم سے مشابہت کر کے انہی میں شامل ہونا یعنی اسلام سے خارج ہونا !

2) جھوٹ بول کر اپنی ہی بربادی کا مستحق ہونا !

3) غارت کر دیا جانا !

4) اللہ تعالٰی کی لعنت کو دعوت دینا !

5) جھوٹ بول کر جنت پر جہنم کو فوقیت دینا !

6) جھوٹ بول کر مومنین سے خارج ہو کر فاسقین میں شامل ہونا !

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں