ریبیز یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے

ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔
کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!
ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندہیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ اب ایک ھفتہ میں تین ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7) کا کورس ہو گا، پہلا ٹیکہ پہلے دن۔ دوسرا ٹیکہ پہلے ٹیکے کے تین دن بعد اور تیسرا ٹیکہ دوسرے ٹیکہ کے چار دن بعد لگتا ھے۔ ایک ھفتہ میں کورس مکمل ھو جاتا ھے۔
اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے ۔
کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے اور خون نہ آئے تو ٹیکہ کی ضرورت نہیں ھے،
ریبیز سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آج تک پانچ سے زیادہ لوگ نہیں بچ سکے۔
کتا،بلی، گائے، بھینس، گیدڑ ،گھوڑا، گدھا، چمگادڑ، ہر وہ جانور جو دودھ پلانے والا ہے، وہ ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاگل کتا جب انہیں کاٹتا ہے تو وہ اپنے جراثیم ان میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہی جراثیم انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں اگر یہ جانور کاٹ لیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔
پبلک سروس میسج….
ایسا پیغام جو شئیر کرنا صدقہ جاریہ کے برابر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں