ضیاءالدین یونیورسٹی کا اٹھارواں کانووکیشن

ضیاءالدین یونیورسٹی کا اٹھارواں کانووکیشن، 582 طلبہ میں اسناد تقویض

کراچی، یکم اپریل 2021 ء: ضیاالدین یونیورسٹی کے اٹھارویں جلسہ تقسیم اسناد کی پروقار تقریب میں مختلف شعبوں کے 582 طالب علموں کو اسناد تفویض کی گئیں۔ تقریب میں پی ایچ ڈی اور ایم فل سمیت ایم بی بی ایس، فارم ڈی، ڈینٹسٹری، آڈیو اینڈ اسپیچ لینگویج تھراپی، بایو میڈیکل انجینئرنگ، میڈیکل ٹیکنالوجی، فزیکل تھراپی، نرسنگ، کمیونی کیشن اینڈ میڈیا سائنسز اور بی ایڈ کی شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات میں اسناد تفویض کی گئیں۔ جلسہ اسناد کی تقریب ضیاءالدین یونیورسٹی سے متصل فیملی پارک میں منعقد کی گئی۔
ضیاالدین یونیورسٹی کے اٹھارویں جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر پرو چانسلر ڈاکٹر ندا حسین نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے 9 طلبہ و طالبات میں گولڈ میڈل بھی تقسیم کیے گئے۔ جن میں منیشا دیوی (ایم بی بی ایس)، مریم ماجد (فارم ڈی)، عطرت فاطمہ شاہ (ڈینٹسٹری)، آمنہ بخاری (آڈیو اینڈ اسپیچ لینگویج تھراپی)، امل فاطمہ(بایو میڈیکل انجینئرنگ)، منیرہ مصطفی (میڈیکل ٹیکنالوجی)، مصباح (فزیکل تھراپی)، سید محسن علی (نرسنگ)، دانیال عابد خطیب (کمیونی کیشن اینڈ میڈیا سائنسز) شامل ہیں ۔
جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضیاءالدین یونیورسٹی کے چانسلر اور تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا طالب علموں کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور والدین بھی آج مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ آپ کی مدد ، رہنمائی اور بھرپور تعاون سے ہی یہ نوجوان آج اپنی منزل پا لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج یہاں سے گریجویٹ ہونے والے طلبہ و طالبات معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ ضیاءالدین یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے اور اس میں مزید شعبہ جات کے اضافے سے طالب علموں کو جدید اور معیاری تعلیم کے حصول کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ 
ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ ضیاءالدین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے ذہین نو جوان دنیا بھر میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر نہ صرف پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیںبلکہ مختلف شعبہ جات میں جدید تقاضوں کے مطابق اپنی خدما ت بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے کیونکہ اس کے بغیر کو ئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ اعلی تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 
 انہوں نے مزید کہاکہ آنے والے وقتوں میں عنقریب ہم ضیاءالدین یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز میں ایسے جدید آلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز شامل کر نے والے ہیں جو پاکستان بھر کے کسی اور تعلیمی ادارے میں نہیں ہیں جس کی حالیہ مثال ضیاءالدین یونیورسٹی کی جانب سے متعارف کروائی جانیوالی تھری ڈی اناٹومی ڈائیسیکشن ٹیبل ہے۔ اس کے علاوہ ہم سائیکلوٹرون کی تنصیب کے عمل میں بھی ہیں جو علاج معالجے کی جلد اور وسیع تشخیص تھریپیوٹیک آئسوٹوپس اور ڈائیگنوسٹکس میں مددگار ثابت ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ ہم جینٹک مولیکیولر لییب پر بھی کام کر رہے ہیں جو کہ جلد ہی ہم متعارف کروانے والے ہیں۔ تحقیقی اور تشخیصی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے یہ دونوں پروجکٹس جن پر ہم کام کررہے ہیں پاکستان بھر کی کسی بھی یونیورسٹی میں اب تک نہیں آئے ہیں۔ 
اس موقع پر ڈاکٹر عاصم حسین نے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کی ضیاءالدین یونیورسٹی کے لیے نو سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پروفسیر پیرزادہ قاسم تعلیمی اور ادبی حلقوں میں ایک بڑا نام ہیں اور ہمارے لیے بہت فخر کی بات ہے کہ ہمارے طالب علموں نے ان کے زیر سرپرستی تعلیم حاصل کی اور ضیاءالدین یونیورسٹی نے اس دوران ان کی رہنمائی میں ترقی کے کئی منازل طے کیے۔ یونیورسٹی کے لیے ان کا خدمات قابل ذکر ہیں۔
جلسہ تقسیم اسناد کے موقع ضیاءالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید عرفان حیدر نے ڈگری حاصل کرنے والے طلبا اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کا تعلق ملک کی بہترین جامعہ سے ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے طالب علموں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک انتہائی معتبر پیشے سے وابستہ ہوچکے ہیں اس اپنی پیشہ وارانہ اخلاقیات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں اور بلا امتیاز مذہب، قومیت، سیاست اور سماجی رتبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیں۔ 
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں