نماز کے احکامات

فضيلة الشيخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

کتاب الصلوٰۃ [ 19:نبی صَلٍى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلٍمَ کی نماز کے اوصاف ]

حدیث : 82
الْحَدِيثُ الثٍانِي والثٍمَانُونَ
عَنْ ابن عباس رضي الله عَنْه قال : قال : رسول اللَّه ﷺ : «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، عَلَى الْجَبْهَةِ ــ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إلَى أَنْفِهِ ــ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب السجود على سبعة أعظم، برقم 809، ورقم 810، وفي باب السجود على الأنف بلفظه، برقم 812، ومسلم، كتاب الصلاة، باب أعضاء السجود والنهي عن كف الشعر والثوب وعقص الرأس في الصلاة، برقم 230- (490)، وفي مسلم، برقم 28- (490)، وفي البخاري، برقم 810.
]

معنی الحدیث:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں پیشانی پر اور اپنےہاتھ سے اپنی ناک کے طرف اشارہ کیا نیز دو ہاتھ، دو گھٹنوں اور دو قدموں کی انگلیوں پر (بخاری و مسلم)

مفرداتُ الحدیث:
اُمِرْتُ : مجھے حکم دیا گیا ۔
اَنْ أَسْجُدَ : کہ میں سجدہ کروں ۔
عَلٰى سَبْعَةِ اَعْظُمٍ : سات ہڈیوں پر اور اس سے مراد سات اعضاء ہیں ۔
اَلْجَبْهَةُ : پیشانی ۔
أَشَارَ بِيَدِهٖ : اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔
اِلٰى اَنْفِهٖ : اپنی ناک کی طرف ۔
الرُّكْبَتَيْنِ : دو گھٹنے ۔
اَطْرَافُ الْقَدَمَيْنِ : دو پاؤں کی انگلیاں ۔

مفہوم الحدیث:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم کے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا :
*پیشانی اور اس میں ناک بھی شامل ہے۔
*دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین ہر لگیں۔
*دو گھٹنے۔
*دو پاؤں کی انگلیاں۔
امت کے لیے بھی ایسا ہی کرنے کا حکم ہے۔

احکام الحدیث:
سجدے میں جسم کے سات اعضاء کو بنیاد بنانا واجب ہے۔
سجدہ کرتے وقت درج ذیل جسمانی اعضاء استعمال کئے جائیں۔
*پیشانی ناک سمیت
*دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں۔
*دونوں گھٹنے۔
*دونوں پاؤں کی انگلیاں اس صورت میں کہ انگلیوں کا رخ قبلے کی جانب ہو۔
:سجدہ کرتے وقت دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ اور پھر پیشانی ناک سمیت زمین پر رکھی جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں