اموالِ غنیمت کی تقسیم

طائف سے واپس ہوتے ہوئے حضور اکرم ﷺ مقام جعرانہ میں رکے جہاں حنین کی لڑائی کا مالِ غنیمت محفوظ کردیا گیا تھا، وہاں آپ ﷺ کئی روز تک مالِ غنیمت تقسیم کئے بغیر ٹھہرے رہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہوازن کا وفد تائب ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کا مال اور قیدی واپس کئے جائیں، لیکن تاخیر کے باوجود آپ ﷺ کے پاس کوئی نہ آیا تو آپ ﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم شروع کردی جس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی اور چھ ہزار قیدی تھے، حضور اکرم ﷺ نے اسلامی قانون کے مطابق کُل مال کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا، چار حصے لڑنے والوں میں بانٹ دئیے اور ایک حصہ بیت المال کے لئے روک لیا، اس پانچویں حصہ میں سے آپ ﷺ نے مکّہ اور دوسرے مقامات کے نو مسلموں کو دل کھول کر حصے دئیے۔

ابو سفیان بن حرب کو چالیس اوقیہ چاندی اور ایک سو اونٹ عطاکئے، انہوں نے کہا: میرا بیٹا یزید؟ آپ ﷺ نے اتنا ہی یزید کو بھی دیا، انہوں نے کہا: اور میرا بیٹا معاویہ؟ آپ ﷺ نے اتنا ہی معاویہ کو بھی دیا، (یعنی تنہا ابوسفیان اور ان کے بیٹوں کو تین سو اونٹ اور ایک سو بیس اوقیہ چاندی ملی)۔

حطیم بن حزام کو ایک سو اونٹ دئیے گئے، اس نے مزید سو اونٹوں کا سوال کیا تو اسے پھر ایک سو اونٹ دئیے گئے، اسی طرح صفوان بن اُمیہ کو سو اونٹ، پھر سو اونٹ اور پھر سو اونٹ (یعنی تین سو اونٹ) دئیے گئے ۔ (الرحیق المختوم)

حارث بن کلدہ کو بھی سو اونٹ دئیے گئے اور کچھ مزید قرشی اور غیر قرشی رؤساء کو سو سو اونٹ دئیے گئے، کچھ دوسروں کو پچاس پچاس اور چالیس چالیس اونٹ دئیے گئے، یہاں تک کہ لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ محمد ﷺ اس طرح بے دریغ عطیہ دیتے ہیں کہ انہیں فقر کا اندیشہ ہی نہیں، چنانچہ مال کی طلب میں بدّو آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑے اور آپ ﷺ کو ایک درخت کی جانب سمٹنے پر مجبور کر دیا، اتفاق سے آپ ﷺ کی چادر درخت میں پھنس گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ” لوگو! میری چادر دے دو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد میں بھی چوپائے ہوں تو انہیں بھی تم پر تقسیم کردوں گا، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل نہ چھوٹا “۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے اونٹ کے بازو میں کھڑے ہوکر اس کی کوہان سے کچھ بال لئے اور چٹکی میں رکھ کر بلند کرتے ہوئے فرمایا: ” لوگو! وﷲ میرے لئے تمہارے مال فیٔ میں سے کچھ بھی نہیں حتیٰ کہ اتنا بال بھی نہیں، صرف خُمس ہے اور خمس بھی تم پر ہی پلٹا دیا جاتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے حضرت زیدؓ بن ثابت کو حکم دیا کہ لوگوں پر مالِ غنیمت کی تقسیم کا حساب لگائیں، انہوں نے ایسا کیا تو ایک فوجی کے حصے میں چار چار اونٹ اور چالیس چالیس بکریاں آئیں، جو شہسوار تھا اسے بارہ اونٹ اور ایک سو بیس بکریاں ملیں۔ (علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ سواروں کو تگنا حصہ ملتا تھا اس لئے ہر سوار کے حصے میں بارہ اونٹ اور ایک سو بیس بکریاں آئیں)۔

یہ تقسیم ایک حکیمانہ سیاست پر مبنی تھی، کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی عقل کے راستہ سے نہیں بلکہ پیٹ کے راستے سے حق پر لائے جاتے ہیں، اس قسم کے انسانوں کے لئے مختلف ڈھنگ کے اسبابِ کشش کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ ایمان سے مانوس ہوکر اس کے لئے پر جوش بن جائیں۔ (الرحیق المختوم)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں