غزوہَ طائف

یہ غزوہ درحقیقت غزوۂ حنین کا امتداد ہے، کیونکہ ہوازن و ثقیف کے بیشتر شکست خوردہ افراد اپنے جنرل کمانڈر مالک بن عوف نصری کے ساتھ بھاگ کر طائف ہی آئے تھے اور یہیں قلعہ بند ہوگئے تھے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے حنین سے فارغ ہوکر اور جعرانہ میں مال غنیمت جمع فرما کر اسی ماہ شوال ۸ ھ میں طائف کا قصد فرمایا۔

طائف نہایت مضبوط مقام تھا جس کے گرد شہر پناہ کے طور پر چار دیواری بنائی گئی تھی، یہاں ثقیف کا قبیلہ آباد تھا جو نہایت بہادر، تمام عرب میں ممتاز اور قریش کا گویا ہمسر تھا، عروہ بن مسعود یہاں کا سردار تھا، ابو سفیان کی لڑکی اس سے بیاہی گئی تھی، کفار مکہ کہتے تھے کہ قرآن اگر اترتا تو مکہ یا طائف کے رؤساء پر اترتا، یہاں کے لوگ فن جنگ سے بھی واقف تھے، طبری اور ابن اسحٰق نے لکھا ہے کہ عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ نے جرش (یمن کا ایک ضلع) میں جاکر قلعہ شکن آلات یعنی دبابہ، صنّور اور منجنیق کے بنانے اور استعمال کرنے کا فن سیکھا تھا۔(طبری – سیرت النبی)

اہلِ شہر اور حنین کی شکست خوردہ فوج نے قلعہ کی مرمت کی، سال بھر کا رسد کا سامان جمع کیا اور مسلمانوں سے مقابلہ کی تیاریاں شروع کیں، حنین کی فوجوں کا سپہ سالار مالک بن عوف نضری بھی شکست کے بعد یہیں آکر قلعہ میں محصور ہوگیا تھا۔

آنحضرت ﷺ نے حنین کے مال غنیمت اور اسیران جنگ کے متعلق حکم دیا کہ جعرانہ میں محفوظ رکھے جائیں اور خود اسی ماہ شوال ۸ھ میں طائف کے لئے روانہ ہوئے، حضرت خالدؓ مقدمتہ الجیش کے طور پر پہلے روانہ کردیئے گئے تھے، اُمہات المومنین میں حضرت اُم سلمہؓ اور حضرت زینبؓ ساتھ تھیں، راستہ میں نخلۂ یمانیہ، پھر قرن منازل، پھر لیہ سے گزر ہوا، لیہ میں مالک بن عوف کا ایک قلعہ تھا، آپ نے اسے منہدم کروا دیا، پھر سفر جاری رکھتے ہوئے طائف پہنچے اور قلعہ طائف کے قریب خیمہ زن ہو کر اس کا محاصرہ کرلیا۔

ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضور اکرم ﷺ طائف کی طرف جاتے ہوئے ایک قبر کے پاس سے گزرے، حضور ﷺ نے فرمایا یہ ابو رغال کی قبر ہے جو ثقیف کا والد ثمودی تھا، حرم میں رہائش کی وجہ سے عذاب سے محفوظ رہا، حرم سے باہر نکلا تو اس کو بھی اسی مقام میں وہی عذاب پہنچا جو اس کی قوم کو لاحق ہوا تھا اور یہاں دفن ہوا، اس بات کے صحیح ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے ساتھ طلائی چھڑی بھی دفن ہوئی، اگر تم اس کو کھود ڈالو تو وہ حاصل کرسکتے ہو، لوگوں نے جلد ہی قبر کھود ڈالی اور طلائی چھڑی نکال لی۔
(سیرت النبی- ابن کثیر)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں