محاصرے کی طوالت

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ طائف کے محاصرہ کو جب پندرہ دن گزر گئے تو آنحضرت ﷺ نے نوفل بن معاویہ سے مشورہ کیا کہ محاصرہ کو جاری رکھنے کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا کہ یارسول ﷲ! ثقیف کی مثال اس لومڑی کی ہے جو اپنے بل میں چھپی بیٹھی ہو، اگر آپ ﷺ اس کے پیچھے پڑے رہیں گے اسے پکڑ لیں گے اور اگر اسے چھوڑ دیں تب بھی وہ آپ ﷺ کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتی۔

اسی زمانہ میں حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک پیالہ مکھن سے بھرا ہوا پیش کیا گیا، مگر ایک مرغ نے ٹھونگ مار کر بہا دیا، آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے خواب کا تذکرہ فرمایا، حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! میرا خیال ہے کہ ہم اس جنگ میں اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں گے۔

محاصرہ کی طوالت کے دوران حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! اب تو ثقیف کے لئے آپ ﷺ بددعا فرمائیں، حضورﷺ نے جواب دیا: ” اے عمر! مجھے ثقیف کے لئے ﷲ تعالیٰ نے بددعا کی اجازت نہیں دی”۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! جس قوم کے لئے ﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بددعا سے روک دیا ہم اس کے مقابلہ میں اپنی جانیں کیوں گنواتے رہیں، یہ سن کر حضور اکرم ﷺ نے محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت عمرؓ کے ذریعہ لوگوں میں منادی کروادی کہ ہم ان شاء ﷲ کل واپس ہوں گے، لیکن یہ اعلان بعض صحابہؓ پر گراں گزرا، وہ کہنے لگے کہ ہم طائف فتح کئے بغیر واپس نہ ہونگے، اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا کل لڑائی پر چلنا ہے، چنانچہ دوسرے روز لڑائی پر گئے، لیکن دشمن کے تیروں کا نشانہ بننا پڑا اور کئی صحابہؓ زخمی ہوگئے ، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ہم ان شاءالله کل واپس ہونگے، یہ سن کر صحابہؓ خوش ہوگئے اور کوچ کی تیاری کرنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: کہو (ہم)لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور حمد کرنے والے ہیں، لیکن بعض صحابہؓ نے روانگی کے وقت پھر عرض کیا: یا رسول ﷲ! ثقیف کے کافروں کے لئے بددعا فرمائیں، لیکن حضور ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:

” اے اﷲ ثقیف کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں میرے پاس بھیج دے”

یہ دعا قبول ہوئی اور جلد ہی ثقیف کے سردار حضور اکرم ﷺ کے قدموں میں آگرے۔

واپسی:

آنحضرت ﷺ نے محاصرہ کو طول دینا پسند نہ فرمایا اس لئے کہ حُرمت والا مہینہ (ذی قعدہ) قریب آرہا تھا جس میں قتال وجہاد جائز نہیں، رسول ﷲ ﷺ طائف کا ایک مہینہ یا بیس روز تک محاصرہ کرنے کے بعد مراجعت فرمائی، جعرانہ ہوئے ہی تھے کہ ماہِ ذیقعد شروع ہوگیا اور آنحضرت ﷺ نے اپنے لشکر سمیت عمرہ کا احرام باندھا، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ طائف سے واپسی کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے ماہِ محرم ختم ہوجانے کے بعد پھر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا.
(حیات محمد- محمد حسین ہیکل)

اس غزوہ میں بارہ صحابہؓ شہید ہوئے جن کے نام حسب ذیل ہیں:

قریش میں سے :

۱: سعیدؓ بن عاص بن اُمیہ
۲: عرفطہؓ بن خباب حلیف بنی اُمیہ
۳: عبدﷲؓ بن ابوبکر صدیق کو تیر لگا اور وہ اس زخم کی وجہ سے حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد وفات پائے۔
۴: عبدﷲؓ بن ابی اُمیہ بن مغیرہ مخزومی (ام المومنین اُم سلمہ کے بھائی)
۵: عبدﷲؓ بن عامر بن ربیعہ حلیف بنی عدی
۶: سائبؓ بن حارث بن قیس بن عدی سہمی
۷: عبدﷲؓبن حارث (سائب کے بھائی)

بنو لیث سے :

۱: جلیحہ ؓ بن عبدﷲ۔ از بنی سعد بن لیث لیثی

خزرج میں سے :

۱: ثابتؓ بن جزع اسلمی
۲: حارث ؓ بن سہل بن ابی صعصعہ مازنی
۳: المنذر ؓ بن عبدﷲ بن عدی

اوس سے :

۱: رقیم ؓ بن ثابت بن ثعلبہ بن زید بن لوازن بن معاویہ اوسی۔

اس طرح سات قریشی، ایک لیثی، ایک اوسی اور تین خزرجی جملہ بارہ صحابہ ؓ شہید ہوئے، (سیرت النبی ، ابن کثیر)

مولف رحمتہ للعالمین نے شہدائے طائف کی تعداد ( ۳) بتلائی ہے:

ان ایام میں جب کہ طائف کا حضور اکرم ﷺ نے محاصرہ کرلیا تھا، طائف کے گردو نواح کے رہنے والے اکثر لوگ خود اور بعض وفود کی شکل میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے۔ (سیرت النبی- علامہ ابن خلدون)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں