وادیِ بروغل و کرومبر جھیل

ضلع چترال کی وادی بروغل و کرومبر جھیل، بس ایک حیرت کی دنیا ہے، جہاں آنکھ محوِ حُسنِ تماشا ہے اور انجام وہی حسرت بھری نگاہ، جس سے انسان اس نگینے کو دیکھتا ہے جس کو وہ ہمیشہ کیلئے نہ پاسکتا ہو، بس ایک خوشگوار احساس اور دلفریب مناظر کی یاد نقش ہو جاتی ہے۔ 🌦️💦

تصویر:- کرومبر جھیل کا فضائی نظارہ

میں نیلی جھیل کنارے بت بنا بیٹھا رہا۔ سیف اللہ کے ہاتھ کی گرم چائے میرے دکھتے گلے کو راحت پہنچا رہی تھی۔ جھیل کا پانی قدرے ساکت ہونے لگا۔ وادی میں بہتی ہوا رُک چکی تھی۔ جھیل کو گھیرے ہوئے برف پوش پہاڑوں کا عکس پانیوں پر جھلکنے لگا تھا۔ سیف اللہ قریب آکر بیٹھا اور بولا ’صاحب! ابھی آپ کا طبیعت اچھا لگ رہا ہے، فوٹوگرافی نہیں کرو گے کیا؟‘ میں نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’تم چاہتے ہو کہ گوتم کی روح اینسل ایڈمز سے ملاقات کرے (یعنی مناظر پر دھیان لگانا چھوڑ کر کیمرے میں مشغول ہوجاؤں)؟‘ پورٹر کو جواب سمجھ نہ پڑا تو وہ بس مسکرا دیا۔ خیر میں نے کیمرا تھاما اور جب جھیل کنارے اترنے لگا تو سیف اللہ کی آواز آئی ’صاحب آپ کی واپسی تک گرم چائے تیار رکھوں گا۔‘ دروش گزرا۔ دریائے چترال کی ہم سفری میں مسافر چلتا رہا۔ چترال کے آتے آتے ترچ میر کی چوٹی پر ٹھہری برف دھوپ سے چمک رہی تھی۔ اسی برف کا پانی بہتا ہوا دریائے چترال میں شامل ہوکر میرے قریب سے بہہ رہا تھا۔ ہاتھ گاڑی کے اسٹئیرنگ پر اور آنکھ ترچ میر کی چوٹی پر ٹکی رہی۔ شہر میں داخل ہوا تو شہر بیدار ہوچکا تھا۔

لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر اُمڈ آیا تھا۔ ہر طرف اپنے دفاتر و دکانوں کو جاتے لوگ، اسکول جاتے بچے اور کالج جاتے نوجوان نظر آئے۔ گاڑی چترال کی شاہی مسجد کی جانب مُڑگئی۔ وہی ایک سجدہ جو ہزار سجدوں سے آدمی کو نجات دیتا ہے۔ شاہی مسجد سابقہ مہتر چترال شجاع الملک نے تعمیر کروائی۔ اس کا طرزِ تعمیر سنہری مسجد پشاور سے ملتا ہے۔ سفید ٹھنڈے سنگِ مرمر پر گرم پیشانی مَس ہوئی تو روح تک تاثیر آنے لگی۔

چترال پہاڑی سلسلہ ہندوکش کے دامن میں بسی گنجان آباد وادی ہے۔ سلسلہ ہندوکش کی سب سے اونچی چوٹی ترچ میر ہے۔ چترال ریاست ہوا کرتی تھی اور اس ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت اس نے سب سے پہلے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔ اس ریاست کے حکمران کو چترالی زبان میں کھوار اور اردو میں مہتر کہا جاتا تھا۔

برطانوی راج میں ریاست چترال آج کے گلگت بلتستان میں واقع ضلع غذر تک مشتمل تھی جس پر برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ نگران ہوا کرتا۔ چترال کی آبادی 5 لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع چترال کی 7 تحصیلیں ہیں۔ چمبر کن، دارکوت اور بروغل چترال کے مشہور درے ہیں۔ شندور، قزیدہ، چاں تار، یارخون اور بروغل یہاں کی مشہور وادیاں ہیں۔ ارکاری، لاسپور، تورکھو اہم گلیشیر جبکہ لاسپور، مولکہو، بمبوریت، لٹ کہو چترال کے مشہور دریا ہیں اور یہ تمام دریا دریائے چترال میں جا گرتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں