ذوالفقار علی بھٹو کی برسی

بہت سی خامیاں بھی تھی اس شخص کے اندر اور بہت سی خوبیاں بھی لیکن اس کے کچھ کارنامے ملک پاکستان کے زہر قاتل ثابت ہوئے جن میں 1970 کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرکے بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنا- کسی بھی حادثے کی صرف ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ بہت سی وجوہات ہوتی ہیں اور ان میں بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ 1970 کے الیکشن نتائج کو تسلیم نہ کرنا بھی تھا-
اس کے علاوہ تمام اداروں کو نیشنلائز کرکے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرنا بھٹو صاحب کا ہی کارنامہ تھا جس کے نتیجے میں ملکی معیشت بیٹھ گئی اور ملک میں مہنگائی کی ریشو پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلی گئی جو کہ آج بھی ایک ریکارڈ ہے- بھٹو کے دور میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد تک چلی گئی تھی-
خارجہ پالیسی میں ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کرنا بنتی ہے کہ خارجہ پالیسی میں بھٹو کے کارنامے بہت بہترین تھے مثلا تیسری دنیا کا ایک بلاک بنانا اور مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر شاہ فیصل اور بھٹو کا عظیم کارنامہ تھا- 1974 میں جب سعودی ایماء پر عربوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا تیل بند کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی ناک سے لکیریں رگڑنے پر مجبور ہوئے- چنانچہ امریکہ ان دونوں کرداروں کے خلاف ہوگیا-
اگست 1976 میں اپنے دورے کے دوران ہنری کسنجر نے بھٹو کو فرانس سے ایٹمی ڈیل کینسل کرنے کو کہا جو بھٹو نہیں مانا- اس کے بعد ہنری کسنجر نے بھٹو کو ان الفاظ میں وارننگ دی-
“مسٹر بھٹو !!ہم تمہیں ایک عبرت ناک مثال بنادیں گے- جب سامنے سے ریل گاڑی آتی دکھائی دیتی ہے تو عقل مند پٹری کے راستے سے ہٹ جاتا ہے”
پھر اس کے بعد بھٹو کا زوال شروع ہوا- مسٹر بھٹو کو ملک کی بایئں بازو کے لوگوں کا ووٹ ملا تھا جبکہ دایئں بازو کے لوگوں کا ووٹ مذہبی جماعتوں کی طرف تھا- دایئں اور بایئں بازو کی ٹرم فرنچ رویلیوشن سے متعارف ہوئی- فرانس کی پارلیمینٹ میں جو لوگ بادشاہ کے حمایتی تھی وہ دایئں سایئڈ پر بیٹھا کرتے تھے ان کو دایئں بازو کہا جاتا تھا- اور یہ کیپٹلزم کے حای تھے- اور جو ریولیوشن کے حامی تھے وہ بایئں سایئڈ پر بیٹھتے ان کو بایاں بازو کہتے تھے اور یہ لوگ شوشلزم کے حامی تھے-
مسٹر بھٹو اس ملک کے بایئں بازو کے لوگوں کے ووٹوں سے جیت کر اسمبلی پہنچا لیکن بعد میں بایئں بازو والوں کو چھوڑ کر دایئں بازو والوں کے پریشر میں آکر ہر وہ کام کیا جس کے نہ کرنے کی وجہ سے اس کو بایئں بازو کا ووٹ ملا-نواز شریف اس کے بالکل الٹ تھا- نواز شریف دایئں بازو کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وزیراعظم بنا لیکن وزیراعظم بن کر اس نے بایاں بازو جوایئن کرلیا اور ہر وہ کام کیا جس کے نہ کرنے کی وجہ سے اس کو ووٹ دیا گیا–
جبکہ اس وقت دایاں بازو اور بایاں دونوں بازو اکٹھے ہوکر عمران خان کے خلاف ہوچکے ہیں- دنیا کی تاریخ میں عمران خان نے پولیٹیکل سائنس کی ہسٹری بدل دی کہ دایئں اور بایئں بازو کو اکٹھا کردیا-
مسٹر بھٹو کو بایئں بازو نے منتخب کرایا لیکن مسٹر بھٹو دایئں بازو کے پیچھے چل پڑے اور اس کے بعد ان کے مشیروں نے ان کو عوام سے دور کردیا- بیوروکریٹس اور ان مشیروں کو دراصل خریدا گیا تھا یہ اس قدر خوشامدی تھے کہ انہوں نے اپنی چرب زبانی سے مسٹر بھٹو کو کھمبے پر چڑھایا اور ان کو بتایا کہ آپ اگر اگلے الیکشن میں نہ ہوئے تو پاکستان نہیں بچے گا- اقتدار کا لالچ ہر شخص میں ہوتا ہے چنانچہ مسٹر بھٹو ان کی باتوں میں آگئے اور پھر بھٹو نے وہی کیا جو کہ بھٹو کو کھڈے لایئن لگوانے کے لیئے کارگر ثابت ہوا-اور بھٹو ایک سیاسی دلدل میں پھنس گیا-
تمام جماعتوں نے بھٹو کے خلاف ایک اتحاد بنایا اس اتحاد کا نام پی این اے رکھا گیا- ہنری کسنجر کے دورہ پاکستان کے پاکستان میں امریکی سفارت خانہ براہ راست سیاست میں مداخلت کرنے لگا-بھٹو کے مشیروں اور بیوروکریسی میں بندے ملانے کے بعد امریکی سفارت خانے نے پی این اے کے رہنماؤں سے راہ و رسم بڑھایا- انہی دنوں پاکستان میں ڈالر کی قیمت یک دم کم ہوگئی- یعنی ڈالر کی ریل پیل شروع ہوئی-
جبکہ بظاہر کوئی تجارتی بوسٹ، قرضہ یا اس طرح کا کام بھی نہیں ہوا- یہ ایک واضح ثبوت تھا کہ امریکہ نے بہت سا پیسہ پاکستان میں پھینکا ہے جس سے پی این اے کے رہنماؤں سمیت بہت سے صحافیوں، بیورکریٹس کو خریدا گیا- اس پر لکھی ہوئی کتابیں موجود ہیں- اس سلسلےمیں امریکہ کے لاہور کے سفارت خانے کے ایک آفیسر جین این گبن کا کردار بڑا مشکوک رہا- اور اس کی بہت سی ملاقاتیں جماعت اسلامی کے مودودی سے بھی ہوئی- یہ کوئی الزام نہیں سب ریکارڈ کا حصہ ہیں-
ان دنوں صوبہ سندھ میں ایک جماعت کے سربراہ کے نام 30 لاکھ روپے کا چیک بھی بڑا مشہور ہوا جو کہ ایک ملک کی طرف سے اس جماعت کے سربراہ کے نام آیا تھا- نام بتاؤں گا تو یہ چیخیں ماریں گے پھر– لیکن آپ سرچ کریں اس پر آپکو بہت سی سٹوریز مل جایئں گی-
چنانچہ بھٹو نے اس سب کے بیچ میں الیکشن کرایا- الیکشن میں دھونس، دھاندلی اور فائرنگ کی گئی- بہت سے حلقوں میں پی این اے کے امیدواروں کو ہی غائب کردیا گیا، ان سے زبردستی سایئن کرواکے ان کو پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں بٹھادیا گیا- اس طرح پیپلز پارٹی 2 تہائی اکثریت تو جیت گئی لیکن بھٹو کے خلاف ایک تحریک نے جنم لیا- جو کہ بھٹو کے کنٹرول سے باہر ہوگئی
بھٹو نے اس کا حل آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ سے پوچھا تو انہوں نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ملک کے تقریبا 33 حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروادیں جہاں واقعی ہی دھاندلی اور دھونس اور زبردستی ہوئی ہے- بھٹو نے حامی بھر لی لیکن پھر وہی سیاسی مشیر آگے آئے اور انہوں نے بھٹو کے کان بھرے اور بھٹو ڈٹ گیا- اور پھر وہ ہوا جس کے بعد مارشل لاء لگا-
بھٹو کو سزا دینے کے بہت سے طریقے تھے جس سے بھٹو کا کردار کچھ ہی عرصے کے بعد خود ہی ختم ہوجاتا لیکن ہماری اس وقت کی نکمی اسٹیبلیشمینٹ نے بھٹو کو غلط طریقے سے مار کر ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا اور یہی مرا ہوا بھٹو آج ہمارے گٹوں میں بیٹھا ہوا ہے- ضیاء الحق بھٹو سے بھی بڑا اس قوم کا مجرم ہے جس نے اس قوم کے اندر وہ بیج بویا جس کا پھل ہم آج بھی کاٹ رہے ہیں-
کسی کو غلط بندے کو بھی غلط طریقے سے مارا جائے تو اس کے لیئے عام عوام میں ہمدردری کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے- یہ چیز ہمارا دایئں بازوں کا دانشور طبقہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے- کہ ہماری اس وقت کی نکمی اسٹیبلیشمینٹ کی کمال مہربانی کی وجہ سے آج ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں- اور پھر ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو دوائم بخشنے کے لیئے اس قوم کو انتہاپسندی، ہیرویئن کلچر، کلاشنکوف کلچر اور قائد اعظم کے پاکستان کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا–اور نظریاتی سرحدوں کی ایسی تیسی پھیر کر رکھ دی-

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں