سدا جواں حکایت

ایک شخص نے لوگوں کو کسی درخت کی پوجا کرتے دیکھا تو غصہ سے بے قابو ہو گیا، گھر سے کلہاڑی لی اور گدھے پر سوار ہو کر اس درخت کو کاٹنے کی نیت سے روانہ ہوا .

راستے میں شیطان سے ملاقات ہو گئی شیطان پوچھنے لگا ، حضرت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟ ان صاحب نے جواب دیا لوگ ایک درخت کی پوجا کرتے ہیں اور میں نے اس کو جڑ سے کاٹنے کا اراد٥ کر لیا ہے ۔

شیطان نے کہا : آپ کہاں جھگڑے میں پڑتے ہیں جو مردود اس کی پوجا کرتے ہیں خود ہی بھگتیں گے .

بڑھتے بڑھتے دونوں میں جھگڑا ہونے لگا اور تین مرتبہ مار پیٹ ہوئی لیکن شیطان پر و٥ شخص ہر مرتبہ غالب آیا ۔ جب شیطان نے سمجھ لیا کہ یہ شخص یوں قابو میں آنے والا نہیں تو ایک دوسری چال چلی اور کہنے لگا آپ اس کام کو رہنے دیں اس کے بدلے میں روزانہ آپ کو چار درہم دیا کروں گا ، جو ہر روز صبح کے وقت آپ کے بستر کے نیچے سے ملا کریں گے .

شیطان کی یہ چال کامیاب ہو گئی، وہ شخص اپنے گھر واپس چلا گیا اور روزانہ صبح بستر کے نیچے سے چار درہم ملنے لگے ، کچھ دن تو یہ سلسلہ چلا ، لیکن پھر وہی حال آہستہ آہستہ درہم ملنا بند ہو گئے ۔ جب اسی طرح کئی دن گزر گئے اور کچھ نہ ملا تو پھر غصہ آیا. اور کلہاڑی اٹھائی اور درخت کاٹنے چل دیا ۔

راستے میں دوبارہ شیطان سے ملاقات ہوئی. شیطان پوچھنے لگا : حضرت ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ان صاحب نے جواب دیا درخت کاٹنے جا رہا ہوں ، جس کی پوجا ہوتی ہے ۔

شیطان نے پھر کہا :

آپ کہاں جھگڑے میں پڑتے ہیں چھوڑیے جو مردود اس کی پوجا کرتے ہیں ، خود بھگتیں گے ۔

ان صاحب نے انکار کر دیا اور کہا اب تو ضرور کاٹوں گا ، بالکل بھی نہیں چھوڑوں گا .

شیطان نے منع کیا لیکن یہ صاحب اصرار کرتے رہے ، لہذا دوبار٥ مقابلہ ہوا جس میں ان صاحب کو شکست ہوئی اور شیطان نے ان کو چِت کر دیا ۔

شیطان کہنے لگا ، بس میاں اب یہ کام تمہارے بس کا نہیں ، کیوں کہ پہلے تم اللہ کی رضا کی خاطر درخت کاٹنے جا رہے تھے ، لیکن اب چار درہم کے لئے جا رہے ہو ، اس لئے اب تم مجھے شکست نہیں دے سکتے ، ورنہ پہلے اگر میں پورا زور بھی لگا لیتا تو تم سے نہ جیت سکتا ، لہذا ایک قدم بھی آگے بڑھا تو خیر نہیں! گردن اڑا دوں گا ۔

مجبوراً ان صاحب نے اس ارادے کو ترک کر دیا اور گھر واپس چلے گئے .

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں