زکوة کے احکامات

الحديثُ السٍادِسُ والستُّونَ بعدَ المائةِ
عَنْ عبد اللَّه بن عباس رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، حِينَ بَعَثَهُ إلَى الْيَمَنِ : «إنَّك سَتَأْتِي قَوْماً أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لا إلَهَ إلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ : أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَك بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ : أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَك بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ».

[رواه البخاري، كتاب المغازي، باب بعث أبي موسى، ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع، برقم 4347، واللفظ له، ومسلم، كتاب الإيمان، باب الدعاء إلى الشهادتين وشرائع الإسلام، برقم 19.]

معنی الحدیث:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہافرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے جب بھیجا اسے یمن کی طرف تم اہل کتاب قوم کے پاس عنقریب جاؤ گے جب تم ان کے پاس آؤ تو انہیں دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ نے ان پر ہردن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انکے فقراء پر لوٹائی جائے گی۔اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو تم ان کے اچھے اموال لینے پر احتراز کرنا مظلوم کی بددعاسے بچنا بلاشبہ اسکے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں (بخاری و مسلم)

مفرداتُ الحدیث:
1 : حِیْنَ بَعَثَهٗ : جب اسے بھیجا ۔
2 : سَتَاْتِیْ قَوْمًا : تم آؤ گے ایک قوم کے پاس ۔
3 : اُدْعُھُمْ : انہیں دعوت دینا۔
4 : یَشْھَدُوْا : وہ گواہی دیں۔
5 : اِنْ ھُمْ : اگر وہ ۔
6 : اَطَاعُوْالَكَ : تیری اطاعت کر لیں، بات مان لیں ۔
7 : تُرَدُّ : لوٹایا جائے گا۔
8 : مِنْ اَغْنِیَآئِھِمْ : ان کے مالداروں سے ۔
9 : عَلَی فُقَرَآئِھِمْ : ان کے فقیروں پر
10 : اَخْبِرْھُمْ : انہیں خبر دینا ۔
11 : فَاِیَّاكَ : بچنا، اجتناب کرنا، احتراز کرنا ۔
12 : اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ : مظلوم کی بد دعا سے بچ کر رہنا۔
13 : حِجَابُٗ : پردہ ۔

مفہوم الحدیث:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا معلم، داعی، قاضی اعر گونر بنا کر بھیجا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ تمہارا واسطہ وہاں جا کر اہل کتاب سے پڑے گا انہیں خوش اسلوبی سے دین کی طرف راغب کرنا سب سے پہلے توحید و رسالت کا اقرار کروانا اگر وہ اقرار کر لیں تو پھر انہیں بتانا کہ شب و روز میں پانچ نمازوں کی ادائیگی ان پر فرض ہے گر وہ یہ بھی تسلیم کر لیں پھر انہیں آگاہ کرنا بدنی عبادت کی ادائیگی کے بعد مالی عبادت بھی ضروری ہے لہذا اپنے اموال میں زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی یہ زکوۃ ان کے مالداروں سے وصول کی جائے گی اور فقراءو محتاجوں کو دی جائے گی اگر وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہو جائیں تو تم ان سے اعلیٰ قسم کا مال وصول نہ کرنا بلکہ متوسط درجے کو پیش نظر رکھنا دیکھنا تیری جانب سے کسی پر ظلم نہ ہو زیادتی نہ ہو کیونکہ مظلوم کی بد دعا براہ راست عرش الہی تک پہنچتی ہے کوئی حجاب حائل نہیں ہوتا۔

احکام الحدیث:
1:دعوت و تبلیغ کا کام حکمت سے کیا جائے۔
2:دعوت الٰی اللہ کو تدریحاً آگے بڑھایا جائے۔
3:پہلے توحید و رسالت کا اقرار ہو گا پھر نمازوں کی فرضیت عائد ہو گی۔
4:نماز کے بعد زکوۃ کی ادائیگی پھر درجہ بدرجہ روزے اور حج کی ادائیگی کا التزام کرنا ہو گا۔
5:زکوٰۃ کی ادائیگی مالی عبادت ہے یہ معاشرتی و معاشی فلاح و بہبود کے لیے فرض کی گئی ہے مسلم سوسائٹی کے صاحب ثروت افراد سے اسلامی حکومت وصول کرتی ہےاوراسی معاشرے کے غربت و افلاس سےپسے ہوئے لوگوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔
6:زکوٰۃ وصول کرنے والا آفیسر لوگوں کے عمدہ مال زکوٰۃ میں وصول کرنے سے احتراز کرے اور متوسط درجے کے مال وصول کرے تاکہ لوگوں میں اضطراب بے چینی اور بد دلی کی فضاء قائم نہ ہو۔
7:ایک شہر کی زکوۃ بوقت ضرورت دوسرے شہر اور اس طرح ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کی جاسکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں