لاہور ہائی کورٹ میں 1975 کےایل ڈی اے ایکٹ اور 2014 کے ایل ڈی اے رولَز کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے درخواست پر سماعت

عدالت نے درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے

عدالت نے نہین دیکھنا کہ کونسا ماستر پلان درست ہے. یہ کام اتھارٹی کا ہے چیف جسٹس..

یہ بتا دیں کہ گرین ایریا پر سوسائٹی بن نہین سکتی. چیف جسٹس

اسطرح کوئی پارک بھی گرین لینڈ پر نہین بن سکتا چیف جسٹس

یہ کیسے ممکن ہے زمین کا کم معاوضہ دیاجاہے. عدالت

چیف جسٹس قاسم خان نے اومیگا ریزڈنشیا کے سی ای او چوہدری محمد سرور کی درخواست پر سماعت کی

درخواست گزار کی طرف سے بیرسٹر عمر ریاض ایڈووکیٹ پیش ہو‍‍یے

درخواست میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ. َڈی سی شیخوپورہ. ایل ڈی اے. اور لاہور میتررو پولیٹن کارپوریشن کو فریق بنایا گیا ہے.

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تھت بلڈنگ پلان. منظوری اور فیس اکٹھا کرنے کی زمہ داری تحصل کونسلون کی ہے. وکیل درخواست گزار.

لوکل گورنمنٹ نے انکی سوسائٹی کو پہلے ہی ریگولر (منظور) کر چکی ہے. وکیل درخواست گزار

ایل ڈی اے رولَز اور ایکٹ کے تھت جو رہائشی کالونیاں آباد کی گیں ہیں ان میں. شامل سوسائٹیز یہ ہیں وکیل درخواست گزار

ایل ڈی اے سے منظور ہونے والی سوسائٹیز مین الرحمان. الجلیل گارڈن. النور. الرازق. قیوم گارڈن اور شادمان انکلیو شامل ہین. وکیل درخواست گزار.

ان تمام سوسائٹیز کوگرین بلٹ پر آباد کرنے کی غیر قانونی منظوری دی گلی. وکیل درخواست گزار

عدالت گرین بلٹ پر قاہم ان سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دے. استدعا

عدالت 1975 کے ایل ڈی اے ایکٹ اور 2014 کے ایل ڈی اے رولز کو بھی کالعدم قرار دے استدعا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں