نماز کے احکامات

الحَدِيثُ الْخَامِسُ والثٍمَانُونَ
عَنْ البراء بن عازب رضي الله عَنْه قال : «رَمَقْتُ الصَّلاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالانْصِرَافِ : قَرِيباً مِنَ السَّوَاءِ».
وفي رواية البخاري : «مَا خَلا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ : قَرِيباً مِنَ السَّوَاءِ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب حد إتمام الركوع، والاعتدال فيه، والطمأنينة، برقم 792، ومسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة، وتخفيفها في تمام، برقم 471، واللفظ له.]

معنی الحدیث:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا :کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بڑے غور سے دیکھا ہے میں نے آپکے قیام رکوع اور رکوع کے بعد اعتدال یعنی قومہ، سجدہ اور سلام و انصراف کو تقریباً برابر پایا بخاری شریف میں ہے کہ قیام اور آخری تشہد کے علاوہ باقی سب ارکان تقریباً برابر تھے۔

مفرداتُ الحدیث:
1 : رَمَقْتُ : میں نے غور سے دیکھا ۔
2 : التَّسْلِيْمُ : سلام پھیرنا ۔
3 : اَلْاِنْصِرَافُ : پھرنا ۔
4 : قَرِيْباً مِّنَ السَّوَآءِ : تقریباً برابر ۔

مفہوم الحدیث:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ارکان نماز ادا کرتے ہوئے مماثلت کو پیش نظر رکھتے قیام اور آخری تشہد کے علاوہ باقی ارکان میں تقریباً برابر وقت صرف کرتے۔

احکام الحدیث:
1:نماز کی ادائیگی میں افضل طریقہ یہ ہے کہ تعدیل ارکان کا خیال رکھا جائے۔
2:قرآت کے لیے قیام اور آخری تشہد دیگر ارکان کی نسبت طویل ہوں گے۔
3:نماز کی پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ ادائیگی مسنون ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں