کیا جمہوریت کفر ہے ؟

ہم سیاست کے اتنے پرانے استاد ہیں کہ تین سو سال سے سیاست کی ہے اور یہ نئے نئے طالب نکل کر مسائل چھیڑتے ہیں، کہ سیاست کفر ہے، جمہوریت کفر ہے، فلاں چیز کفر ہے ، فلاں چیز کفر ہے ، آرام سے بیٹھ جاؤ یہ تمہارا کام نہیں ، بعض لوگوں کی اپنی ترغیبات ہوتی ہے اور اپنی ترغیبات میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ پھر منہ سے فتوے نکالتے ہیں ، لیکن ان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ فتوے ہم کس کے خلاف دے رہے ہیں –

جب آپ جمہوریت کو کفر کہتے ہیں ، تو جو جمہوریت کی بات کرتا ہے وہ کافر ہے ، تو آپ نے شیخ الہند کو بھی کافر بنا دیا اور مولانا حسین احمد مدنی کو بھی کافر بنا دیا ، مولانا عبدالحق ، مفتی محمود اور شیخ حسن جان کو بھی کافر کر دیا ، تم ہو کیا چیز ؟ تمہیں پیدا کس نے کیا کے تم ایسی باتیں کرتے ہو، تم نے کسی اور کی علمی تحقیق نہیں دیکھی ؟

جمہوریت اسلام کے مقابلے کا نظام نہیں ہے ، اگر بادشاہت ہے تو بھی نظام اسلام کا ہوگا ، اگر ڈکٹیٹر شپ ہے تو بھی نظام اسلام کا ہوگا ، اگر جمہوریت ہے تو بھی نظام اسلام کا ہوگا ، اگر خلافت ہوگی تو بھی نظام اسلام کا ہوگا ، اگر امارت ہوگی تو بھی نظام اسلام کا ہوگا ، اسلام ایک مکمل نظام ہے ، باقی تنظیمی نظام کی بات کرتے ہیں ، تنظیمی نظام تو جس نے جو پسند کیا ، جمہوریت کی ہر جگہ اپنی ایک تاریخ ہے ، مغربی جمہوریت میں لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے ، لیکن پاکستانی جمہوریت میں یہ ناجائز کام نہیں ہے ، وہاں مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ، کیا پاکستانی نظام میں ایسا کر سکتی ہے ؟

وہاں کہتے ہیں بھائی بہن بھی ایک دوسرے کے قریب جا سکتے ہیں ، لیکن یہاں پاکستان میں کوئی یہ بات کر سکتا ہے ؟ کوئی مسلمان یہ بات کر سکتا ہے ؟

پاکستان کا آئین کہتا ہے :
“کہ قانون قرآن و سنت کے تابع ہوگا”:

آئین کہتا ہے :
کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا ۔

اور آئین کہتا ہے :
کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ رب العزت کی ہوگی –

اور جمہور کے نمائندے اللہ کے نمائندے اللہ کی نیابت کریں گے زمین پر ، انفرادی اور اجتماعی زندگی اللہ کی تعلیمات کے مطابق ہوں گی ، یہ ہمارا آئین کہتا ہے ، اسلام اور قرآن ایک مانا ہوا نظام ہے اگر ایک مسلمان اس پر عمل نہیں کرتا تو یہ اسلام کا انکار تو نہیں کرتا ؟ تم اس کو کافر کہہ سکتے ہو ؟ پاکستان میں بھی بہت سارے لوگ ہوں گے جو اس پر عمل نہیں کرتے ہوں گے ، لیکن جدوجہد تو جاری ہے ، اللہ مجھ سے نتیجہ کے بارے میں نہیں پوچھے گا ، لیکن یہ ضرور پوچھے گا کہ مقصد کے لیے جس جدوجہد کی ضرورت تھی تم نے وہ کیا ہے یا نہیں ، محنت و مشقت کی ہے یا نہیں ؟ میدان میں کردار ادا کیا تھا یا نہیں ؟

الحمدللہ ہم میدان میں کردار ادا کر رہے ہیں ، تو یہ نئے نئے لوگ ہمیں نہ چھیڑا کریں ، ہم سیاست کے پرانے استاد ہیں ، تین سو سال کی ہم نے سیاست کی ہے ، پھر یہ نئے نئے طالب نکل کر کہتے ہیں کہ سیاست کفر ہے ، جمہوریت کفر ہے،فلاں چیز کفر ہے ، فلاں چیز کفر ہے ، آرام سے بیٹھ جائیں ، تم کہاں سے نکل آئے کے ہمیں سبق پڑھا رہے ہیں ، ان مسائل میں اصلاح کی ضرورت ہے ، اجماع کی تابعداری کرنی چاہیے ، آج جمعیت علمائے اسلام میں ان مدارس کے فاضل علماء سفید ریش علماء ، پانچ لاکھ علماء کا ایسا مجموعہ پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے ، ایسے بڑے علماء کے ہوتے ہوئے تم کہتے ہو کہ جمہوریت کفر ہے ، تم ہو کون ؟ کہاں سے نکلے ہو یہ بھی پتہ نہیں ، لہذا احتیاط کریں ، بہت زیادہ احتیاط کریں ، کسی کی محنت پر کفر کا فتویٰ تو نہ لگائیں ، یہ حنفی ہے ؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرح محتاط شخص تو پوری دنیا میں نہیں ہے اور تم اپنے آپ کو حنفی کہتے ہو ؟

تو اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام نئے مسائل کے لیے تیار نہیں ہیں ، جو ہمارے اکابر نے طے کیا ہے ، وہ درست ہے اور ہم اسی پر روانہ ہیں ، ان پر ہمیں اعتماد ہے ، علم میں ، تقویٰ میں ، سیاست میں ، ہم سب سے وہ افضل تھے ، ہم تو مقلدین ہے ، لیکن جہاں جگہ تقلید کی آ جاتی ہے تو وہاں ہم مجتہد بن جاتے ہیں اور جہاں جگہ اجتہاد کی ہو تو پھر ہم وہاں تقلید شروع کر دیتے ہیں ، اس حوالے سے ان شاء اللہ جمعیت علمائے اسلام کا اپنا ہوگا اپنا کردار ہوگا ، اللہ تعالیٰ ہمیں خیر کی توفیق دے ، یہ جھگڑے نہ بنائیں ،

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں